ہنڈائی اور کیا کار کمپنیز کے خلاف انڈیا میں مہم کیوں چلی؟

 انڈیا میں مختلف افراد ٹوئٹر پر ہنڈائی اور کیا موٹر کمپنی کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ کمپنی کے پاکستانی اکاؤنٹ سے ہندوستان کے زیر قبضہ  کشمیری افراد سے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق ہنڈائی کمپنی کے اکاؤنٹ سے کشمیریوں کے حق خودداریت اور آزادی کی حمایت کی گئی تھی۔

  کشمیریوں کی حمایت پر مشتمل پوسٹ کے بعد مشتعل ہندوستانیوں کی جانب سے ان کمپنیوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا اور ٹویٹر پر بائیکاٹ ہنڈائی ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

 ہفتہ کو کشمیریوں کی قربانیوں کی یاد منائی جب پاکستان نے اپنا سالانہ یوم یکجہتی کشمیر دن منایا۔ 

بھارت میں سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین نے بائیکاٹ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہنڈائی کو دہائیوں پرانے تنازعہ پر ملک کے سرکاری موقف کے لیے “غیر حساس” ہونے کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

 اس مہم کے بعد کمپنی کی ٹویٹس کو بعد میں ہنڈائی پاکستان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے حذف کر دیا گیا۔ 

اس مہم کا جواب دیتے ہوئے، ہنڈائی کے انڈین اکاؤنٹ نے کہا کہ وہ عظیم ملک انڈیا کے لیے عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں اور غیر حساس گفتگو ہمارے لیے ہرگز قابل برداشت نہیں اور ہم ایسے کسی بھی نظریے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں | حسین نواز نے نواز شریف کی فیکٹری وزٹ ویڈیو چار پانچ ماہ پرانی قرار دے دی

  ہندو قوم پرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) گروپ کے اقتصادی ونگ کے ایک اہلکار، اشونی مہاجن، جس کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں، نے کہا ہے کہ ہنڈائی کو کشمیر پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہنڈائی یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ 

جہاں انڈیا نے ہنڈائی کی مذمت کی وہاں پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ انڈیا کو ایک ٹویٹ سے آگ لگ گئی ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔