کیا گوگل کے خلاف گستاخانہ مواد پر مقدمہ ہو سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کا سوال

نجی نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف (ایل ایچ سی) نے ایک وفاقی افسر سے پوچھا کہ کیا فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) گوگل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا دائرہ اختیار رکھتی ہے۔ 

وکیل اظہر حسیب نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں حکومت سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ قادیانیوں کے ایک رہنما کا نام گوگل کے ڈیٹا بیس سے خلیفہ اسلام کے نام سے منسوب ختم کریں۔ 

وکیل نے استدعا کی کہ جب انٹرنیٹ استعمال کرنے والا گوگل سرچ انجن میں “اسلام کا موجودہ خلیفہ کون ہے” لکھتا ہے تو ایک قادیانی رہنما کا نام ظاہر ہوتا ہے جو کہ سراسر دھوکہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں | ہرنائی حملہ میں پاک فوج کے 7 جوان شہید

گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس کے جاری کردہ ہدایت کی تعمیل میں ایف آئی اے کے متعدد عہدیدار عدالت میں موجود تھے۔

 انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد ہٹانے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس محمد قاسم خان نے لاء آفیسر کو اس نکتے پر معاونت کرنے کی ہدایت کی کہ آیا ایف آئی اے اگر کوئی گستاخانہ مواد نہ ہٹایا گیا تو گوگل کے خلاف مقدمہ درج کراسکتا ہے۔

 ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا کہ ایف آئی اے ذمہ دار ہے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب قابل اعتراض اور گستاخانہ مواد کے خلاف کارروائی کرے۔ جج نے دیکھا کہ صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ جج نے کہا کہ یہ کس قسم کی ریاست مدینہ ہے کہ بنیادی ذمہ داری پوری نہیں ہو رہی ہے؟ 

 ایف آئی اے کو توہین آمیز مواد سے خصوصی طور پر نمٹنے کے لئے ایک ونگ قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس نے قانون افسر سے پوچھا کہ اگر بیرون ملک سے کوئی شخص انٹرنیٹ پر توہین رسالت کے مواد پھیلانے میں ملوث ہے تو ایف آئی اے کیا کارروائی کر سکتی ہے۔

اس سلسلے میں چیف جسٹس ہائی کورٹ ملتان کا بینچ  30 دسمبر کو سماعت دوبارہ شروع کرے گا۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

سبسکرائب
کو مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
()
x