مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

کیا اب پولیس ملزم سے پوچھے کہ اس کے خلاف تفتیش کون کرے؟ فواد چوہدری

 Lahore  Lahore

نجی ٹی وی چینل پر پاکستانی صحافی غریدہ فاروقی نے فواد چوہدری سے سوال کیا کہ نیب کے چئیرمین کے معاملے میں آپ شہبازشریف کی آراء کیوں نہیں لیتے تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ شہباز شریف جن پر خود نیب میں کیس چل رہا ہے اور وہ مجرم ہیں تو ان سے کوئی کیوں پوچھے گا؟

فواد چوہدری نے اینکر کو مخاطب کر کے مثال دی کہ کہ دیکھیں اگر آپ پولیس سٹیشن جائیں اور کہیں کہ مجھ سے فلاں فلاں زیادتی ہوئی ہے تو پولیس آپ سے کہےکہ ٹھیک ہے ہم نے ایف آئی آر کاٹ دی ہے اب ہمیں ملزم سے پوچھ لینے دیں کہ اس کے خلاف تفتیش کرے گا؟

انہوں نے کہا کہ اسی طرح جب شہبازشریف پر نیب میں خود ایک کیس چل رہا ہے تو ہم ان کے کہنے پر کیسے کسی کو چئیرمین نیب لگا سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں | این اے 249 کا معرکہ کون جیتے گا؟

اینکر غریدہ فاروقی نے کہا کہ اس طرح تو پھر تحریک انصاف کے خلاف بھی فارن فنڈنگ کا کیس چل رہا ہے تو اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ یہ کیس عمران خان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیب کیسز اور ایسے کیسز کے درمیان فرق بتایا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مزید بتایا کہ ہماری کابینہ کے کسی فرد کے خلاف نیب میں کوئی کیس نہیں ہے۔

اینکر نے سوال کیا کہ پنڈورا لیکس میں کافی کابینہ ممبران کا بھی نام ہے جس پر فواد چوہدری نے بتایا کہ یہ کوئی کیس نہیں بلکہ ایک خبر ہے بس اور آپ بھی جانتی ہیں کہ صرف آف شور کمپنی ہونا کوئی جرم نہیں ہے البتہ آف شور کمپنی کی تفصیلات کیا ہیں وہ دیکھ کر قانونی معاملات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔