ڈیری سیمن نے امریکی سیاہ فاموں کے حق میں آواز بلند کر دی

  جون 03 2020: (جنرل رپورٹر) امریکا میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے سیاہ فاموں کے حق میں سابق ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی بھی بول اٹھے ہیں- انہوں نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ناانصافی کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں ڈیرن سیمی نے آئی سی سی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو پتہ نہیں میرے جیسے لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا یہ صرف امریکہ میں نہیں بلکہ ہر جگہ ایسا ہوتا ہے- اب خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے میں آپ کی زبان سے بھی اس کے خلاف کچھ سننا چاہتا ہوں

ان کی اس ٹویٹ کو اس لنک پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے

ڈیرن سیمی نے مزید ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بہت لمبے سے عرصے سیاہ فام لوگ اس طرح کے واقعات کو برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں- وہ اس وقت سینٹ لوشیا میں ہیں اور جارج فلائیڈ کے قتل کے انسانیت سوز واقعے کی وڈیو دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے- انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا کہا اور کہا کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں وہ بھی ہماری حمایت کر سکتے ہیں اس سے تبدیلی آئے گی

ڈیرن سیمی نے اپنی ٹویٹس کے دوران جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد مشہور ہیش ٹیگ “بلیک لوز میٹرز” بھی استعمال کیا جس کا مطلب ہے کہ سیاہ فام لوگوں کی زندگی بھی میٹر کرتی ہے

صرف یہی نہیں بلکہ ڈیرن سیمی نے ٹویٹر پر سیاہ فام امریکی مقتول کے حق میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں ایک سیاہ فام کی گردن پر پاؤں رکھ کر مارے جانے والی انسانیت سوز وڈیو دیکھنے کے بعد بھی کرکٹ کی دنیا اس پہ کچھ نہیں کہتی اور اس ناانصافی کے خلاف نہیں بولتی تو پھر وہ بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں

ان کی اس ٹویٹ کو اس لنک پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے

یاد رہے کہ امریکا میں پیر کے روز امریکی ریاست مینی سوٹا میں ایک سیاہ فام شخص کی موت پولیس کی جانب سے اس کی گردن پر گھٹنہ رکھ کر بیٹھنے سے واقع ہوئی تھی جس کی دیکھتے ہی دیکھتے وڈیو وائرل ہو گئی- اس وڈیو وائرل ہونے کے بعد امریکا بھر میں سخت احتجاج شروع ہوا تھا جس میں جلاؤ گھیراؤ بھی کیا گیا جو کہ اب تک جاری ہے اور بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *