ڈرامہ “ارتغل غازی” کے کردار متعلق جانئے

مشہور ترکی ڈرامہ “ارتغل غازی” سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے- لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ارتغل غازی تھا کون اور اس کی بائیو ہسٹری کیا ہے- جانئے اس رپورٹ میں

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ برس ایک تقریب میں خطاب کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ترکی ڈرامہ “ارتغل غازی” کو اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان میں نشر کیا جائے تا کہ ہمارے لوگوں کو بھی مسلمانوں کی تاریخ کا علم ہو سکے- وزیر اعظم کی اسی خواہش کو عملی جامہ پہچانے کے لئے ارتغل غازی کو پی ٹی وی پر دکھانے کی منظوری دے دی گئی جس کا آغاز یکم رمضان سے ہو چکا ہے- اب تک اس ڈرامے کی اردو ڈبنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر پانچ اقساط آ چکی ہیں- یہ ڈرامہ روزانہ 7 بج کر 55 منٹ پر شام کو روزانہ نشر کیا جاتا ہے

سوشل میڈیا پر یہ ڈرامہ کئی ہفتوں سے ٹرینڈ میں رہا ہے لیکن اکثر پاکستانی اس بات سے بےخبر ہیں کہ اصل میں ارتغل غازی تھا کون اور اس پر ڈرامہ کیوں بنایا گیا

“ارتغل” کون تھے ؟

ارتغل غازی اصل میں سلطنت عثمانیہ کے پہلے حکمران عثمان غازی کے والد کا نام ہے–انہی “عثمان غازی” کے نام پر سلطنت عثمانیہ کا نام رکھا گیا ارتغل کے لفظی معنی “عقابی شخص” یا سپاہی یا شکاری یا ہیرو وغیرہ کے ہیں- ان کا خاندان بیگ یعنی سردار کہلاتا تھا- یہ قبیلہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے اہلسنت و جماعت سے تعلق رکھتا تھا اور مسلکا حنفی تھا –  یہ ایک بہادر نڈر اور جنگجو شخصیت کے مالک تھے- انہوں نے اپنے قبیلے کے دفاع کی خاطر بہت ساری فتوحات حاصل کیں جس کے نتیجے میں سلطنیت عثمانیہ کا قیام عمل میں لایا گیا- سلطنت عثمانیہ خلافت کے طرز عمل پر نظام حکومت تھا جو کہ اسلام کا اصل نظام ہے جس کا خاتمہ 1922 میں مختلف سازشوں کے نتیجے میں ہوا

ارتغل غازی پر ڈرامہ کیوں بنایا گیا ؟

غیر ملکی میڈیا ماہر جوش کارنی نے کہا کہ ترکی نے مشہور شخصیات کو چھوڑ کر ارتغل غازی پر ڈرامہ اس لئے بنایا کیونکہ اسے ترکی سے باہر لوگ جانتے نہیں- اور ایسی شخصیت کے متعلق کچھ بھی ڈرامہ میں دکھایا جا سکتا ہے کیونکہ لوگ حقیقت سے بےخبر ہوتے ہیں- لیکن ترکی ڈرامے ارتغل غازی کا اصل مقصد ان کی جنگجو صلاحیت کو ظاہر کرنا ہے جو انہیں ورثے میں ملی ہے- اس ڈرامے کی بدولت دنیا بھر کے لوگوں کو ترکیوں کی ثقافت متعلق بہت معلومات ملی ہے- کتابوں میں لکھا ہے کہ ترک قوم شروع سے ہی نڈر جنگجو اور ان کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشہور ہے- ارتغل غازی ڈرامہ دیکھنے والا شخص ان باتوں کا ادراک بخوبی کر سکتا ہے

ارتغل غازی کا مزار

ترکی میں سوگت کے علاقے میں ایک مسجد اور اسے سے ملحقہ مزار ہے جو ارطغل کے نام پہ ہے- اس بارے مشہور ہے کہ ان کے بیٹے نے اس کی تعمیر کی جس کے رقبے کو بعد میں مزید وسیع کیا گیا- اس مسجد اور مزار پر اب تک کافی بار کام ہو چکا ہے سو پرانے دور کی کوئی نشانی اب نہیں ملتی بلکہ وہ مسجد اور مزار دور حاضر کی تعمیر کے مطابق ہے

ارتغل غازی کا دور

ارتغل غازی کے دور میں منگول فتنہ ہر طرف اپنی تباہی پھیلا رہا تھا اور مسلمانوں کا قتل عام بھی جاری تھا- ارتغل میں شروع سے ہی جذبہ ایمان اور جنگجو جیسی قوتیں مضبوط تھیں- یہ چنگیز خان کا دور تھا جس نے خوارزم شاہ سلطنت کو تباہ کر دیا تھا- مسلمان ایسے  حالات میں منگولوں کے آگے بھاگ رہے تھے اور ارتغل منگولوں کو مقابلہ نہیں کر سکتا تھا- ارتغل نے اپنے قبیلے کو لیا اور سلجوقی سلطنت کی طرف روانہ ہو گیا- یہ تقریبا چار سو کے لگ بھگ خاندان تھے
اسی رستے میں ارتغل نے دو فوجوں کو آپس میں لڑتے دیکھا تو سوچا کسی ایک کا ساتھ دینا چاہیے- ارتغل کو معلوم نا تھا کہ کون سی دو فوجیں آپس میں لڑ رہی ہیں بہرحال ارتغل غازی نے کچھ بھی سوچ کر ہارنے والی فوج کا ساتھ دیا اور اچانک حملہ کر کے سخت مقابلہ شروع کر دیا- جیتنے والی فوج نے سمجھا کہ شاید مخالف کی کوئی مدد ہو گئی ہے اور اب وہ ہار جائیں گے سو انہوں نے جیتتے جیتتے ہار مان لی- مخالف فوج سلطان علاوالدین کی فوج تھی یا اس متعلق اختلاف پایا جاتا ہے- بہرحال جیتنے والی فوج کے سلطان نے ارتغل کی بہادری کو سراہا اور تحفے میں اپنی سلطنت میں اناضول کے قریب ایک جاگیر عطا کی اور یہ قبیلہ وہیں آباد ہو گیا- سلطان نے ارتغل کو اجازت دی کہ ساتگ والے علاقوں کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیں- ارتغل چونکہ مجاہد اعر نڈر آدمی تھا اس نے فتوحات کے سلسلے شروع کر دئیے جس کے نتیجے میں بہت سارے ترک قبائل ارتغل کے ساتھ .ل گئے اور اس کو اپنا سلطان تسلیم کر لیا- ارتغل فتوحات کرتا رہا اور لڑتا رہا یہاں تک کے 1281 عیسوی میں نوے برس کی عمر میں انتقال کیا- اس کا بیٹا عثمان غازی تھا جس کے نام پر سلطنت عثمانیہ کا آغاز ہوا

ارتغل کو “غازی” کیوں کہا جاتا ہے

اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑنے والے اور فتوحات حاصل کرنے والے جنگجووں کو “غازی” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے- چونکہ ارتغل کافی نڈر بہادر اور جنگجو شخص تھا جس نے اپنے دور میں بہت فتوحات کی تھیں- اس لئے ارتغل کو “ارتغل غازی” کہا جاتا ہے- ان کا بیٹا عثمان غازی بھی اپنے دور کا بہادر اور نڈر مجاہد تھا جس نے اسلام کی سربلندی کے لئے بہت فتوحات حاصل کیں- سلطنت عثمانیہ بھی اسی کے نام سے منسوب ہے- ارتغل کا خواب تھا کہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں لایا جائے اور ان کی یہ خواہش ان کے بیٹے عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھ کے پوری کی- ارتغل غازی سوغوت شہر میں مدفون ہیں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

سبسکرائب
کو مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
()
x