پاکستان میں درہم شارٹ ہو گیا لیکن کیوں؟

ملک کی اوپن مارکیٹ کو اب درہم کی کمی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانی مسافروں کے لیے ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے وقت 5000 درہم ڈکلیئر کرنے کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کے بعد، ملک کی اوپن مارکیٹ کو اب درہم کی کمی کا سامنا ہے۔ 

ڈیلی ڈان کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں درہم کی کمی تھی جس کی وجہ تازہ ترین پیش رفت نے امریکی ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ کیا۔

 ایک طویل عرصے کے بعد اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی کمی ہے جس کی وجہ سے گرین بیک کے انٹربینک ریٹ کے مقابلے میں قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

 صدر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بتایا کہ پاکستان سے روزانہ 21 پروازیں دبئی پہنچتی ہیں، جن میں کل 4,200 پاکستانی یومیہ سفر کرتے ہیں جنہیں روزانہ تقریباً 21 ملین درہم درکار ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ درہم کھلی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے جبکہ قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں | الیکشن کمیشن نے عمران خان کے پارٹی ہیڈ  کے طور پر الیکشن پر اعتراضات اٹھا دئیے

یہ بھی پڑھیں | سندھ کی صورتحال 2010 کے سیلاب سے زیادہ خطرناک ہے، وزیر اعلی سندھ

 درہم کی زیادہ مانگ درحقیقت ڈالر کی کمی کی وجہ بنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے تمام مسافروں کے لیے نقد رقم اور زیورات کا اعلان کرنے کے نئے ضابطے نے اس مسئلے میں اضافہ کیا ہے۔ 

 مشرق وسطیٰ سے بہت سے لوگ ریال اور درہم کی نقد رقم لے کر آتے ہیں۔ وہ پاکستان میں اپنے اہل خانہ کو براہ راست نقد رقم دینے کے لیے اپنے ساتھیوں سے نقد رقم بھی لاتے ہیں۔ اب کوئی پاکستانی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ 

 ان عوامل کی وجہ سے کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسیوں کی آمد میں تقریباً 3 ملین ڈالر یومیہ کمی آئی ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔