پائلٹس کے لائسنس جعلی نہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اعتراف

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کو جاری کردہ کوئی بھی لائسنس جعلی نہیں ہے۔ پروسیجر میں کچھ غلطیاں ضرور ہیں جن کی نشاندہی ہوئی ہے انہیں دور کرنے کی جوشش کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹس کی بدنامی اور پی آئی اے کی بربادی کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نیا بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی لائسنس جعلی نہیں ، تمام پاکستانی پائلٹس کے پاس اصلی لائسنس ہیں۔

زرائع کے مطابق غیر ملکی ائیرلائنز میں کام کرنے والے 96 پاکستانی پائلٹس کے لائسنسوں کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اصلی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ جن پائلٹس کے لائسنسوں کو کلئیر قرار دےد یا گیا ہے ان کا تعلق متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، بحرین، ملائشیا، ترکش سمیت دیگر ائیر لائنز سے ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے 24 جون کو پارلیمنٹ میں یہ کہا تھا کہ سول ایوی ایشن کی جانب سے جارہ ہونے والے 30 فیصد لائسنس جعلی ہیں جس کے بعد دنیا بھر میں ہی آئی اے اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی لگنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ پاکستان سول ایوی ایشن کے حالیہ بیان سے وفاقی وزیر ہوا بازی کے موقف کی تردید ہوتی یے  جبکہ وفاقی وزیر ہوا بازی کا یہ بیان دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی وفاقی وزیر ہوابازی کے بیان کو سپورٹ دی گئی۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ناصر جامی نے اپنے اونان ایوی ایشن اتھارٹی کے نام خط میں لکھا ہے کہ پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی لائسنس جعلی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہروسیجر میں کچھ خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے تاہم انہیں دور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہوائی سفر اور مسافریب کی حفاظت کے لئے ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب پائلٹس کی تنظیم پالیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی جانب سے لائسنسوں کو کلئیر قرار دینا ہمارے موقف کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی اور پی آئی اے انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ روے سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں کام کرنے والے پائلٹس کو نقصان پہنچایا گیا۔ کہا کہ پی آئی اے اور پاکستانی پائلٹس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے خود اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ کوئی بھی لائسنس جعلی نہیں ہے۔

شئر کریں

فریلانکی رائٹر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *