Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

ندا یاسر کے وائرل کلپ پر منصور علی خان کا تجزیہ

بلال رشید by بلال رشید
ستمبر 6, 2021
in تفریحی خبریں – فلم، ڈرامہ، موسیقی اور شوبز اپ ڈیٹس, فلم انڈسٹری کی خبریں – بالی ووڈ، لالی ووڈ اور نئی فلمیں
یہ بھی پڑھیں | آزادی کے لیڈر سید علی گیلانی کو دفن کیا گیا۔

ندا یاسر کا ٹی وی میزبان کی حیثیت سے ایک کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں وہ فارمولہ ون کار ریسنگ کے بارے میں معلومات نا ہونے کی بنیاد پر عجیب سوال پوچھتی دکھائی دیتی ہیں جس ہر مختلف لوگوں کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمز پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے تجزیہ نگاہ صحافی منصور علی خان نے ویڈیو بیان میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی کوئی پروگرام ہوتا ہے تو اس میں تین مرکزی کردار ہوتے ہیں؛ میزبان، پروڈیوسر اور ریسرچر۔

 انہوں نےبتایا کہ اس معاملے میں اگرچہ غلطی ندا یاسر کی بھی ہے کہ انہوں نے بغیر تیاری کے پروگرام کیا لیکن پروڈیوسر کی بھی غلطی ہے کہ اس نے ایسے سوال کو حذف یا تبدیل کرنے کا کیوں نا کہا؟

یہ بھی پڑھیں | آزادی کے لیڈر سید علی گیلانی کو دفن کیا گیا۔

انہوں نے اپنے موقف میں کہا کہ ضروری نہیں کہ جو صحافی ہو وہ ہر فن مولا ہو اور اسے دنیا کی ہر شے کا علم ہو۔ یہ ایک عام سی بات ہے کہ ہو سکتا ہے کسی معاملے میں آپ کو بہت زیادہ علم ہو اور کسی دوسرے معاملے میں آپ کی معلومات اتنی نا ہوں۔

انہوں نے مثال دی کہ فارمولا کار ون ریسنگ  سے متعلق پاکستان میں اگر آپ سو افراد سے سوال کریں گے تو اکثریت کو اس متعلق بلکل معلومات نہیں ہوں گی کیونکہ یہاں اس کا ٹرینڈ نہیں ہے۔

انہوں نے اقرار کیا کہ اگر ندا یاسر کو پتہ تھا کہ شو میں کار ریسنگ سے متعلق بات ہو گی اور دو مہمان اس میں آئیں گے تو انہیں اس موضوع سے متعلق تیاری کرنیچاہیے تھی یا ریسرچر سے اس متعلق مواد فراہم کرنے کو کہا جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عامر خان کا بائیکاٹ لال سنگھ چھڈا ٹرینڈ چلانے والوں کو جواب
بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

حالیہ خبریں

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026
ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ

ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ: مائیکروسافٹ کا نیا پلان، اب آفیشل گیمز کھیلیں بالکل مفت

جولائی 25, 2026
عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم

عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم: 90 کی دہائی کے یادگار شاہکار کی اینیمیشن کے ساتھ  واپسی

جولائی 25, 2026
پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام

پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام: نوجوانوں کے لیے 1 لاکھ روپے ماہانہ وظیفے کا شاندار موقع

جولائی 25, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.