ناسا نے انسانی کانوں کے لئے بلیک ہول کی خوفناک آواز کو ریمکس کیا

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے نے ایک کلپ جاری کیا ہے جو کہ بلیک ہولز کے جوڑے سے نکلنے والی حیرت انگیز آواز کا ہے۔ ناسا نے بلیک ہول کی خوفناک آواز کو ریمکس کیا ہے۔ یہ آواز خلائی دوربینوں کے زریعے ریکارڈ کی گئی ہے۔

بلیک ہول کی آواز کیسی لگتی ہے؟ 

 سمتھسسنیئن آسٹروفزیکل آبزرویٹری کی جانب سے ایک نئی تحقیق کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلیک ہول یہ بات طے کرتی ہے کہ آواز کس طرح سنتے ہیں۔

ضروری تعلق خلا میں آواز کی لہروں کی ترسیل کے لیے ضروری ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آواز محض ایک قسم کی لہر ہے جس کی آواز بلیک ہول کے زریعے سنی جا سکتی ہے۔ خلائی’آوازوں‘کی فہرست کی تیاری ناسا اور چندر ایکسرے نے تیار کی ہے۔ یہ کام اجرام فلکی کی لہروں کی بصری روشنی، ایکسرے اور برقی مقناطیسی نظام  کو سننے کے قابل فریکوئنسیز میں تبدیل کیا جاتا ہے جس کے بعد ہم ان آوازوں کو سن سکتے ہیں۔

 سننے کے قابل تیار کی گئی آوازوں میں ان میں ہماری کہکشاں کے اندرونی حصے، سپرنووے اور’تخلیق کے ستون‘جیسے گیس جیسی آوازیں شامل ہوتی ہیں۔

تاہم ناسا اور چندر سینٹر نے بلیک ہول ویک کے اعزاز میں دو نئی آوازوں کی مکسنگ شئیر کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پانچ کروڑ 30 لاکھ نوری سال کی دوری پر واقع مسیئر 87 نامی کہکشاں میں پہلا بلیک ہول ہے۔ یہ بلیک ہول سال 2019 میں دریافت کیا گیا تھا جبکہ اس کی دریافت میں ایونٹ ہورائزن نامی دوربین کو استعمال کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں | انٹرنیٹ نہیں چل رہا تو کیا ہوا؟ یہ دس کام کریں  

 دوسرے بلیک ہول اس سے مختلف ہیں۔

یہ بلیک ہول زیادہ تر دوسرے اہداف سے مختلف ہے جو کہ کہکشاں پرسیئس میں ستاروں کے جھرمٹ کے وسط میں واقع ہے۔

ناسا اور چندر ایکسرے سینٹر کو نے دیکھا ہے کہ پرسیئس بلیک ہول کی آواز کس طرح سے اس طرح بنائی جا سکتی ہے کہ اسے عام انسان سن سکیں۔

یاد رہے کہ بلیک ہول کی آوازیں فطرتی طور پر پیانو پر وسطی سی سے 57 آکٹیوز کم ہوتی ہیں جس وجہ سے انہیں 57 سے 58 آکٹیوز تک بڑھانا ضروری ہے۔ حیرت انگیز تجزیہ یہ ہے کہ ان آوازوں کو اصل آواز سے 288 کھرب گنا زیادہ کیا جانا ممکن ہے۔

یہ نتیجہ مسیئر 84 کی صوتی شکل سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ جیسے مسیئر 84 کی آواز بھلی ہے ویسے ہی پرسیئس کی آواز بہت عجیب اور ناگوار سی ہوتی ہے۔ 

یونیورس آف لرننگ پروگرام کے حصے کے طور یہ آوازیں ناسا نے تخلیق کی تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ اور خلا،  فلکیات اور طبیعات کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کی طلب کی تعریف کرنا اور اسے خوش آئیند قرار دینا ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں