متحدہ عرب امارات نے مسلسل چوتھے سال گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر رپورٹ 2024/2025 میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف امارات کے کاروباری ماحول کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے ایک اہم پیغام بھی ہے کہ یہ ملک ایک شاندار کاروباری مرکز بن چکا ہے۔
- جی ای ایم رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 56 ممالک میں سب سے زیادہ سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے والا ملک قرار پایاہے۔ متحدہ عرب امارات نے 13 میں سے 11 کلیدی اشاریوں میں برتری حاصل کی ہے جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- کاروباری مالیاتی سہولتیں اور فنڈنگ کی آسانی
- حکومتی پالیسیاں جو نئے کاروباروں کو فروغ دیتی ہیں
- ٹیکس اور بیوروکریسی میں آسانی
- کاروباری تعلیم (اسکول اور پوسٹ اسکول سطح پر)
- تحقیق و ترقی کی سہولیات
- نئے کاروباروں کے لیے مارکیٹ میں آسان داخلہ
- کاروباری ماحول کے حوالے سے معاشرتی اور ثقافتی عوامل
یہ عوامل نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی امارات کو ایک مثالی کاروباری مقام بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔
اماراتی حکومت نے کاروباری ترقی کے لیے 8.7 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو کہ پروجیکٹس آف دی 50 کے تحت کی گئی ایک بڑی پیشرفت ہے۔ اس کے علاوہ 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ بھی اس ملک کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش مقام بناتا ہے۔
امارات میں کاروباری سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے:
- 67% افرادکسی نہ کسی کاروباری شخصیت کو جانتے ہیں یا خود کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- 70% اماراتی مقامی سطح پر کاروباری مواقع کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔
- 78% نئے کاروباری افراد سماجی اور ماحولیاتی بہتری کو منافع سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
- 75% نئے کاروبار اگلے پانچ سالوں میں کم از کم چھ افراد کو ملازمت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
- 80% کاروبار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے خواہشمند ہیں جو کہ مستقبل کی معیشت کے لیے اہم ہے۔
یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں کاروباری افراد نہ صرف محنتی ہیں بلکہ ڈیجیٹل اور جدید رجحانات کو اپنانے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جس سے ملک کی معیشت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
پاکستان میں بھی کاروباری رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اسٹارٹ اپس میں دلچسپی لے رہی ہے اور فری لانسنگ اور ای کامرس میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تاہم کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔