لاہور ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

شیریں مزاری رہا ہو گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے آج منگل کو پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز کو بھی رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ مزاری کی بیٹی ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔

شیریں مزاری کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

 درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئیں اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے امن خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شیریں مزاری کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔

شیریں مزاری پر 9 مئی سے گھر میں ہونے کے باوجود کارکنوں کو اکسانے اور مشتعل کرنے کا الزام ہے۔ 

وکیل نے مزید استدعا کی کہ اس کے مؤکل نے کوئی عوامی بیان نہیں دیا اور گھر میں اس کی موجودگی کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر ریکارڈ سے چیک کیا جاسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں |  لوگوں نے عمران خان کی دہشتگردانہ ذہنیت مسترد کر دی ہے: مریم اورنگزیب

 جج نے شیریں مزاری کی عمر کے بارے میں پوچھا جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کی عمر 72 سال ہے اور انہیں طبی مسائل ہیں۔ 

 بعد ازاں عدالت نے تھری ایم پی او کے تحت شیریں مزاری کی گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایک اور درخواست کی سماعت کرتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر فلک ناز کو بھی فوری بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

حرمین رضا

حرمین رضا اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔