فردوس عاشق کے حکومت پہ الزامات، حکومت نے تردید کر دی

 مئی 02 2020: (جنرل رپورٹر) سابق معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ عمران خان میری کارکردگی سے مطمئن تھے- مجھ سے وزیر اعظم نے استعفی نہیں مانگا بلکہ ان کے سیکٹری نے مانگا تھ اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ نے استعفی نا دیا تو فورا ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا

ان خیالات کا اظہار فردوس عاشق اعوان نے جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں کیا- کہا کہ وزیراعظم کو حقائق غلط بتائے گئے اور مجھ پر بےبنیاد الزامات لگائے گئے- انہوں نے کہا کہ ہتک عزت کا دعوی بھی دائر کروں گی

فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ مجھے دئیے نوٹیفیکیشن میں نا تو کوئی الزام تھا نا ہی یہ استعفی کی کوئی وجوہات درج تھیں- انہوں نے کہا کہ پرنسپل سیکٹری کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بھی وزیر سے استعفی مانگے, وفاقی کابینہ کے معاملے میں صرف وزیر اعظم عمران خان بااختیار ہیں جو کسی سے بھی استعفی لے سکتے ہیں- میں نے پرنسپل سیکٹری کو کہا تھا کہ میری ملاقات عمران خان سے کروا دیں اگر وہ استعفی مانگیں تو بلکل بھی دیر نہیں کروں گی لیکن ایسا نہیں کیا گیا

کہا کہ پورے ایک سال سال ناجانے کس کس نے میری شکایتیں لگائیں- کہا کہ جب مجھے استعفی کے لئے بلایا گیا تو وہاں شہزاد اکبر بھی موجود تھے- میں نے کہا کہ آپ اس کے اہل نہیں کہ مجھ سے استعفی مانگیں آپ استعفی نہیں مانگ سکتے انہوں نے کہا کہ اگر استعفی نہیں دیں گی تو ڈی نوٹیفائی کر دوں گا میں نے کہا ڈی نوٹیفائی کر دیں جبکہ میرے خلاف نجی چینلز پر خبریں بھی چلوائی گئیں

نجی ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبروں متعلق کہا کہ سرکاری ٹی وی میرے انڈر نہیں تھا یہ بلاوجہ کا بےہودہ الزام لگایا ہے کہ میں نے اپنی مرضی کی بھرتیاں کروائیں- اپنے وکیل کے ساتھ مل کر ہتک عزت کا کیس فائنل کرنے جا رہی ہوں تا کہ ان لوگوں کو سزا ملے جو ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر یا یوٹیوب پر کچھ بھی بول دیتے ہیں- اگر جراءت تھی تو زرائع کی بجائے ثبوت دیتے یا مجھ سے معافی مانگیں

دوسری جانب حکومتی زرائع نے فردوس عاشق اعوان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھلا کوئی سیکٹری وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر استعفی لے سکتا ہے ایسا ممکن ہی نہیں- سیکٹری صرف احکامات پہچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے-  وہ اپنے تئیں کسی کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتا

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔