عاصم سلیم باجوہ کا لگائے گئے الزامات کا جواب، مستعفی ہونے کا اعلان

چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کا جواب دے دیا ہے نیز انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جے عہدے سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے البتہ چئیرمین سی پیک کی حیثیت سے وہ کام کرتے رہیں گے اور اپنی تمام توجہ سی پیک پر مرکوز رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے وزیر اعظم کی جانب سے سی پیک پر ہی صرف توجہ مرکوز کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ 

انہوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنانیں اور کاروبار سے متعلق لگائے گئے الزامات کے بھی جوابات دئیے اور کہا کہ لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بےبنیاد ہیں۔ میں نے 22 جون 2020 کو معاون خصوصی کی حیثیت سے اثاثے ڈیکلئیر کر دئیے تھے۔ 

عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے یکم جون 2020 کو بیرون ملک سے تمام سرمایہ کاری ختم کر دی تھی۔ عاصم سلیم باجوہ نے اقرار کیا کہ ان کے بیٹے کے نام موچی کارڈ وینر کمپنی موجود ہے بتایا کہ میرے ہانچ بھائیوں اور اہلیہ کی کل کیش سرمایہ کاری 54 ہزار امریکی ڈالر تھی۔ 

واضح طور پر کہا کہ میرے بیٹوں یا بھائیوں کے نام کسی رجسٹرڈ کمپنی کو سی پیک کا کوئی ٹھیکہ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کے خلاف الزامات کی کوشش بےنقاب ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باجکو گلوبل مینیجمنٹ کی پاپا جونز پیزہ برانچز میں کسی قسم کا کوئی ملکیتی مفاد نہیں ہے۔

چئیرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر 4 صفحات پر مشتمل جواب دئیے جس میں صحافی احمد نورانی کے الزمات کا جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عزت اور وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہے اور کرتا رہوں گا۔ 

مزید بتایا کہ میرے بیٹے پر سی اون بلڈرز اینڈ اسٹیٹ کمپنی بنانے کا الزام لگایا گیا جبکہ کمپنی کے قیام سے لے کر اب تک اس کمپنی نے کوئی کاروبار نہیں کیا ہے۔ کہا کہ دوسری کمپنی ہمالیہ لیمیٹڈ ہے جس میں 50 فیصد شئیر ہیں اور یہ کمپنی اتنی چھوٹی ہے کہ تین سال میں صرف 5 لاکھ روپے کمائے ہیں۔ کس بھائی یا بیٹے کی کمپنی کو سی پیک میں کوئی ٹھیکہ نہیں دیا گیا ہے۔ احمد نورانی کے تمام الزمات کو بےبنیاد قرار دیتا ہوں۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔