راولپنڈی میں ڈینگی کیسزکا اضافہ جاری

ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہوئے

پوٹھوہار ٹاؤن راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے مزید 7 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ضلع میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 86 ہوگئی۔ .ل

 یہ بات ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ایپیڈیمکس پریونشن اینڈ کنٹرول (ڈی سی ای پی سی) ڈاکٹر سجاد محمود نے پیر کو بتائی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نئے کیسز میں چک جلالدین سے چار اور پوٹھوہار ٹاؤن کے علاقے دھامہ سیداں، کلائیل اور گرجا سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔ 

میونسپل کارپوریشن راولپنڈی

ڈاکٹر سجاد نے مزید کہا کہ اس سال ضلع میں تقریباً 86 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں پوٹھوہار ٹاؤن اربن ایریا سے 44، کہوٹہ سے 13، راولپنڈی چھاؤنی سے سات، میونسپل کارپوریشن راولپنڈی سے چھ، چکلالہ چھاؤنی سے چار، ٹیکسلا کنٹونمنٹ سے دو جبکہ گوجر خان، ٹیکسلا دیہی اور پوٹھوہار کے دیہی علاقوں میں ایک ایک مریض کی اطلاع ملی۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی میں باہر کے اضلاع سے تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں | ملتان سے سکھر موٹروے: بس اور آئل ٹینکر کا خوفناک تصادم، بیس افراد جاں بحق 

یہ بھی پڑھیں | سوات مکمل طور پر سول انتظامیہ کے پاس ہے، خیبر پختونخواہ پولیس

محکمہ صحت کے افسر

 محکمہ صحت کے افسر نے تصدیق کی کہ ڈینگی لاروا کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے سرویلنس جاری ہے جبکہ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ 

ڈاکٹر سجاد نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے یکم جنوری 2022 سے ضلع کے مختلف علاقوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 327 احاطے سیل کیے، 814 ایف آئی آر درج کیں، 997 کو چالان، 4827 کو نوٹسز اور 26 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ 

ڈینگی لاروا کی افزائش

 انہوں نے یاد دلایا کہ موجودہ موسم ڈینگی لاروا کی افزائش کے لیے موزوں ہے اور انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ بارش اور زیر آب پانی کے بعد مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے باہر اور گھریلو سیٹنگز سے کھڑا پانی نکال دیں۔ 

ہیلتھ آفیسر نے مکینوں پر زور دیا کہ وہ اپنے پانی کے ٹینکوں کو صاف رکھیں اور پانی کو تالاب یا گڑھے کی طرح جمع نہ ہونے دیں کیونکہ بارش کے بعد پانی کا جمع ہونا ڈینگی بخار سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔