دعاؤں کی اپیل: جنرل مشرف کی صحتیابی ممکن نہیں ہے، خاندانی زرائع

دبئی میں مقیم سابق صدر جنرل

سال 2016 سے دبئی میں مقیم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اہل خانہ نے جمعہ کو ان کے انتقال کی خبروں کی تردید کی ہے۔

ٹویٹر پر ان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان

ٹویٹر پر ان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔ ان کی بیماری (امائلائیڈوسس) کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے 3 ہفتوں سے اسپتال میں داخل ہیں۔

 

ہندوستانی ویب سائٹس نے موت کی اطلاع دی

خاندان کی جانب سے یہ بیان ان کی موت کی افواہوں کے بعد سامنے آیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اور کچھ ہندوستانی ویب سائٹس نے بھی موت کی اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھیں | روس پاکستان کو سستا تیل دینے کے لئے تیار ہو گیا

یہ بھی پڑھیں | سندھ ایڈز کے کئے اورل میڈیسن پروگرام شروع کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

 سابق صدر کے خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پرویز مشرف کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام افواہیں غلط ہیں۔

 ذرائع نے مزید کہا کہ سابق حکمران کو سانس لینے میں دشواری کی شکایت کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 

پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ڈاکٹر محمد امجد نے بھی بتایا کہ ان کے انتقال کی خبر جھوٹی ہے۔ وہ زندہ ہیں اور زیر علاج ہیں۔

 پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے ترجمان امان خان ترین نے بھی ان کی موت کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ 

یاد رہے کہ 78 سالہ سابق فوجی حکمران امائلائیڈوسس میں مبتلا ہیں، ان کے اہل خانہ کے مطابق، یہ ایک غیر معمولی بیماری ہے جس کی وجہ اعضاء اور ٹشوز میں امائلائیڈ نامی غیر معمولی پروٹین کی تشکیل ہوتی ہے۔ امائلائیڈ پروٹین (ذخائر) کی تعمیر اعضاء اور بافتوں کے لیے مناسب طریقے سے کام کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں