بھارت سے کشیدگی، نیپال نے نیا نقشہ جاری کر دیا

 مئی 19 2020: (جنرل رپورٹر)  نیپال کی بھارت سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر نیپال نے ملک کا نیا نقشہ جاری کر دیا, کہا کہ کچھ بھی ہو آباو اجداد کی زمین کی حفاظت کریں گے

تفصیلات کے مطابق بھارت سے سرحدی تنازع پر نیپال کی کئی روز سے کشیدگی جاری ہے-  اس حوالے سے نیپالی کابینہ نے نیا نقشہ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے- زرائع کے مطابق نئے نقشے میں لیپولیکھ, کالا پانی اور لیپمیادرا نیپال کے حصے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے جس پر تاحال بھارت کا قبضہ ہے

شرائع کے مطابق نیپالی حکومت جلد نیا نقشہ شائع کرنے والی ہے جس میں لیپولیکھ, کالاپانی اور لیمپیادرا کو نیپال کا حصہ دکھایا جائے گا- جبکہ تاحال یہ تمام علاقے بھارت کے زیر اثر ہیں

اس متعلق نیپالی کابینہ کا اجلاس ان کے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوا جس میں وزیر لینڈ مینیجمنٹ نے نئے نقشہ کو منظوری کے لئے پیش کیا

نیپالی وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے کہا تھا ہم اب اپنے آباء و اجداد کی زمینوں کی حفاظت کریں گے- وزیر خارجہ نے تمام رہنماؤں سے درخواست کی کہ اس معاملے کو تحمل سے صبر کے ساتھ دیکھا جائے

نیپال کی مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ پریم سوال کہتے ہیں کہ نیپالی وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ بھارت کی مقبوضہ زمین پر اپنی ریاست کا دعوی نہیں چھوڑیں اور اسے لے کر رہیں گے- یاد رہے کہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو منسرور روڈ کا آغاز کیا تھا جو لیپولیکھ کے قریب سے ہو کر گزرتا ہے

واضح رہے کہ لیپولیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین انڈیا اور ناپال کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں- انڈیا کے اس قدم کے بعد نیپالی قوم میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ ملک بھر میں بھارت کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں

نیپالی وزیر اعظم نے بھارت کے اس اقدام کے بعد سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور کہا ہے کہ یہ زمین نیپال کی ہی تھی اور رہے گی

نیپالی حکومت کا دعوی ہے کہ بھارت نے ان کے علاقے لیپولیکھ میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک کی تعمیر کی ہے جو غیر قانونی ہے- اسی بنیاد پر کئی وفعہ نیپال بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی بھی ہو چکی ہے

واضح رہے کہ نیپالی حکومت 2019 میں بھی ماہ نومبر میں اسی معاملے میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکی ہے

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *