اپمورٹ پر پابندی غلط تھی، سید نوید قمر

وزیر تجارت سید نوید قمر

وزیر تجارت سید نوید قمر نے بدھ کے روز کہا ہے کہ درآمدات پر پابندی عائد کرنا ایک غلط  فیصلہ تھا اور ہم اس پابندی کو جلد از جلد اٹھانے کی حمایت کرتے ہیں۔ 

نوید قمر نے یہ ریمارکس پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی رپورٹ کے دو دن بعد دیے جس میں کہا گیا تھا کہ تقریباً دو ماہ قبل تقریباً 41 اشیا کی درآمد پر پابندی کے باوجود درآمدی بل گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 80 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے جو کہ 55 فیصد زیادہ ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی

 پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کے تعاون سے منعقدہ ایک تجارتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے درآمدات پر پابندی لگا کر ملک کو غلط سمت کی طرف گامزن کیا لیکن یہ انتہائی صورتحال میں کیا گیا۔ 

 وزیر نے کہا کہ وہ اس پابندی میں مزید توسیع کے خلاف وکالت کریں گے جو دو ماہ کے لیے عائد کی گئی تھی اور 18 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن سب کچھ وزارت تجارت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

نوید قمر نے کہا کہ درآمدی پابندی غیر نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور ہمیں اسے جلد اٹھانا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں | مویشی منڈی میں خریدار کم اور زائرین زیادہ

یہ بھی پڑھیں | موٹر کار کی امپورٹ کے لئے سٹیٹ بینک نے اجازت لینا لازمی قرار دے دیا

وفاقی کابینہ نے تقریباً 41 اشیاء کی درآمد پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی تھی

یاد رہے کہ انیس مئی کو وفاقی کابینہ نے تقریباً 41 اشیاء کی درآمد پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی تھی تاکہ بڑھتے ہوئے ڈیفالٹ کو روکا جا سکے۔ 

ںہوں نے کہا کہ درآمدی پابندی حکومت کی طرف سے سوچا سمجھا اقدام نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد درآمدات کو عارضی طور پر روکنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نئی منڈیوں کو استعمال کرتے ہوئے برآمدات کو فروغ دینا اور تجارتی رکاوٹوں کو کم کرکے برآمدی ٹوکری کو بڑھانا ہی آگے بڑھنے کا حتمی راستہ ہے۔ 

 گزشتہ مالی سال کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ ​​حکومت نے درآمدات کو 55 ارب ڈالر تک محدود کرنے کا ہدف رکھا تھا، جو بڑھ کر 80 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

درآمدات کو 2 ارب ڈالر فی مہینہ تک محدود کرنے کی ہدایت

 وزیراعظم شہباز شریف نے ابتدائی طور پر درآمدات کو 2 ارب ڈالر فی مہینہ تک محدود کرنے کی ہدایت کی تھی۔  وزارت تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پابندی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کے ذریعے درآمدات میں ماہانہ 984 ملین ڈالر کی کمی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

 وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے کے خلاف تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی نمایاں طور پر اضافہ ہوا. 

 منگل کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان آنے والے سامان کو 30 جون تک کلیئر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

حرمین رضا

حرمین رضا اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔