امریکہ میں 17 سال بعد وفاقی حکومت کی جانب سے قتل کے مجرم کو سزائے موت

امریکہ میں 17 سال سے وفاقی سطح پر سزائے موت کی سزا دینے پر پابندی تھی جسے تبدیل کر دیا گیا ہے اور 17 سال بعد ریاست انڈیانا میں قتل کے مجرم کو سزائے موت دے کر اس سزائے موت کے قانون پر وفاقی سطح ہر عملدرآمد بھی کر دیا گیا ہے۔

واضح ہو کہ وفاقی سطح پر سزائے موت کے قانون ہر عملدرآمد کرنے کا حکم امریکی صدر ٹرمپ نے دیا تھا جبکہ اس سے پہلے وفاقی طور پر سزائے موت کی سزا دینے ہر پابندی عائد تھی۔

تفصیلات کے مطابق 47 سالہ سفید فام ڈینئیل لی تین افراد کے قتل میں ملوث تھا جسے زہر کا ٹیکہ لگا کر سزائے موت کی سزا دی گئی۔

زرائع کے مطابق اس ہفتے میں مزید دو مجرمان کی سزائے موت کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ میں ریاستی سطح ہر سزائے موت کی سزا عملدرآمد ہوتا رہا لیکن وفاقی سطح ہر اس ہر پابندی عائد تھی جو کہ صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد ختم ہو گئی یے۔ وفاقی سطح پر 2003 عیسوی سے کسی مجرم کو سزائے موت کی سزا نہیں دی گئی تھی۔

اسٹاف رائٹر

سبسکرائب
کو مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
()
x