ارش دیپ سنگھ کو “خالصتانی” قرار دے دیا گیا

ہندوستان سخت جنونی نظریات کو پروان

مودی کی قیادت میں ہندوستان سخت جنونی نظریات کو پروان چڑھا رہا ہے جہاں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے خلاف میچ ہارنے کے بعد ہندوستانی کھلاڑی کو اس کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے ‘پاکستانی’ یا ‘خالستانی’ قرار دے دیا گیا ہے۔

 اس بار 23 سالہ کرکٹر ارشدیپ سنگھ اتوار کو پاکستان کے خلاف ایشیا کپ 2022 کے سپر 4 میچ میں کیچ چھوڑنے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین کا نشانہ بن گئے۔

 سکھ نسل کی وجہ سے اسے خالصتانی کہا جا رہا ہے۔ 

مذہبی شناخت کے لیے نشانہ بنایا

کیچ ڈراپ کے بعد، ٹرولز نے اسے اس کی مذہبی شناخت کے لیے نشانہ بنایا اور اسے بدتمیزی سے پکارا اور اسے گالیاں دیں۔ 

 ارشدیپ نے آخری اوور میں صرف سات رنز ہونے دئیے اور غیر معمولی طور پر اچھی گیند بازی کی۔ انہوں نے آصف علی کو آؤٹ کیا لیکن اس میں بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ پاکستان دو گیند کے رہتے ہوئے میچ جیت چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں | ایشیا کپ ۲۰۲۲: پاکستانی ٹیم نے ٹریننگ سیشن کینسل کر دیا

یہ بھی پڑھیں | پاکستان کا انڈیا کے ساتھ اگلا میچ کب ہے؟

  پاکستان کی جیت اور ہندوستان کی شکست کے بعد، ارشدیپ کو ناراض ہندوستانیوں نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ بہت سے لوگوں نے انہیں اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر انہیں اور ان کے خاندان کو گالیاں دی گئیں اور بالخصوص ارشدیپ کو خالصتانی قرار دیا گیا۔

وکی پیڈیا کے صفحے کو بھی خراب کر دیا

مزید برآں، ان کے وکی پیڈیا کے صفحے کو بھی خراب کر دیا گیا اور اس میں کئی جگہوں پر لفظ “خالستانی” کا اضافہ کیا گیا۔ 

ایک ٹوئٹر ہینڈل نے مطالبہ کیا کہ ارشدیپ کو پاکستان بھیجا جائے۔ صارف بھارتیہ جنتا پارٹی کا آوازی حمایتی ہے اور اکثر پارٹی کی تعریفیں کرتا ہے۔ 

 ٹوئٹر صارف محمد زبیر نے کیچ چھوڑنے کے بعد ارشدیپ سنگھ کے خلاف کی جانے والی گالیوں کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، تاہم کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو میچ ہارنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو وہ بھونیشور کمار تھے جنہوں نے 19ویں اوور میں 19 رنز بنائے۔ 

 قابل ذکر بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ ٹی 20 مقابلے کے دوران پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے دوران ہندوستانی کرکٹر محمد شامی کو ہندوستان کی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور انہیں بے دردی سے ٹرول کیا گیا۔ اس کے خاندان کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی کی گئی اور انہیں پاکستان جانے کو کہا گیا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔