مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

ابرار الحق کے “بیبی شارک” کمنٹ سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

  ابرارالحق کے ‘بیبی شارک’ سے م۵ تبصرہ نے انٹرنیٹ پر ایک ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔

ابرار الحق ، جو ایک گلوکار سے سیاستدان بنے ہیں ، نے 26 اگست کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سالانہ جشن کے کنونشن میں اپنے بیان کے دوران کہا کہ جب ہم بڑھے ہوتے تھے ، ہمیں اپنی ماؤں کی طرف سے کلمہ طیبہ سننے کو ملتا تھا۔ آج کے بچوں کو سیل فون دیے جاتے ہیں تاکہ مائیں انہیں ‘بیبی شارک’ سنا سکیں۔ 

سوشل میڈیا پر ابرارالحق کے اس تبصرے کو کچھ افراد نے مزاح میں لیا اور اسے بہترین میم قرار دیا جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ ایک مذاق تھا جو ہاکستانی ماؤں کی نئی جنریشن کو کیا گیا۔ 

اس حوالے سے سپر ماڈل نادیہ حسین اور اداکار یاسر حسین نے ابرار الحق کے ان ریمارکس پر تنقید کی۔ نادیہ حسین نے انسٹاگرام سٹوری پر لکھا کہ یقین نہیں آتا کہ آپ اپنی ماں سے کلمہ سننے سے لے کر ‘نچ پنجابن نچ’ اور ‘بلو دے گھر’ جیسے گانے کو کس طرح گانے لگ گئے۔

 نادیہ کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے یاسر حسین نے کہا کہ آپ نے تو گریبان سے ہی پکڑ لیا ہے۔  

یہ بھی پڑھیں | روپیہ دو سال کی بلند ترین قیمت پر آ گیا 

دوسری طرف ، زرنش خان نے ابرار الحق کا دفاع کیا اور ایک تبصرے کی وجہ سے ان کے کردار پر ذاتی حملے کرنے والوں پر تنقید کی۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوریز پر کہا کہ اگر کوئی اچھی بات کہتا ہے تو آئیے اسے اسی طرح بیان کریں۔ آئیے ان کی باتوں کو نظر انداز نہ کریں یا ان کی پوری زندگی کا فیصلہ نا کریں۔ اگر ایسا ہی جاری رہا تو ہمیں بہرے بننے کی مشق کرنی پڑے گی۔ 

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔