جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.41 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد جمعہ کے روز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس تجویز پر سماعت کی ہے جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو جلد جاری کیا جائے گا۔
بجلی کی قیمت میں یہ کمی حکومت کی جانب سے کی گئی مختلف مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے نتیجے میں ممکن ہو رہی ہے۔
سب سے پہلے پٹرولیم لیوی میں کمی کے ذریعے 1.71 روپے فی یونٹ کی رعایت دی جا رہی ہے۔
اس کے بعد رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو 1.90 روپے فی یونٹ کا ریلیف دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے 1.36 روپے فی یونٹ کی کمی متوقع ہے۔
اسی طرح تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بھی 1 روپے سے زائد فی یونٹ کمی کی توقع ہے۔
ان تمام ایڈجسٹمنٹس کو ملا کرٹیکس سے پہلے کل ریلیف تقریباً 6 روپے فی یونٹ بنتا ہے جبکہ ٹیکس شامل کرنے کے بعد یہ ریلیف 7.41 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف ملک کی معاشی صورتحال کے استحکام سے مشروط ہے۔ اگر معیشت مستحکم رہی تو عوام کو یہ سہولت ملتی رہے گی۔ تاہم اس سال بجلی کی قیمتوں میں عارضی طور پر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے قیمتیں کم کی جا رہی ہیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ اگلے تین مہینوں میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 58.7 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے جو اس ریلیف کو ممکن بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
علاوہ ازیں حکومت نے پانچ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جن سے 12 ارب روپے کا ریلیف حاصل ہوا ہے۔ اب تک کل 32 IPPs کے ساتھ معاہدوں پر نظرِثانی کی جا چکی ہے۔