ملک میں اسلامی مالیات کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے باضابطہ طور پر پاکستان کے پہلے سود سے پاک کریڈٹ رسک شیئرنگ پروڈکٹ (شریعت کے مطابق) کی منظوری دے دی ہے۔
نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ (NCGCL) کی جانب سے تیار کردہ یہ جدید مالیاتی آلہ روایتی طور پر نظر انداز کیے گئے شعبوں کے لیے مالیاتی رسائی کو محفوظ طریقے سے بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ روایتی کریڈٹ گارنٹی کے متبادل کے طور پر سختی سے سود سے پاک (Riba-free) سہولت پیش کر کے، اس پروڈکٹ کا مقصد اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مائیکرو، سمال، اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) اور زرعی شعبے کو بااختیار بنانا ہے۔
یہاں اس بات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نیا مالیاتی پروڈکٹ کیسے کام کرتا ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر کیوں ہے۔
سود سے پاک کریڈٹ رسک شیئرنگ پروڈکٹ: (Riba-Free) رسک شیئرنگ ماڈل کیسے کام کرتا ہے
روایتی کریڈٹ گارنٹیوں میں اکثر مقررہ فیس اور طے شدہ منافع شامل ہوتا ہے جو سود (Riba) کے حوالے سے اسلامی مالیاتی احکامات سے متصادم ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے NCGCL نے حقیقی رسک شیئرنگ (خطرے کی شراکت) پر مبنی ایک منفرد اور شریعت کے مطابق ڈھانچہ تیار کیا ہے۔
یہ نیا فریم ورک دو بنیادی اسلامی مالیاتی تصورات پر کام کرتا ہے:
تبرع (Tabarruʿ): روایتی پریمیم فیس ادا کرنے کے بجائے حصہ لینے والے مالیاتی ادارے ایک مشترکہ فنڈ میں رضاکارانہ طور پر حصہ ڈالتے ہیں۔
وکالہ (Wakalah): NCGCL ان حصہ لینے والے اداروں کی جانب سے اس مشترکہ فنڈ کا انتظام کرنے کے لیے بطور وکیل (Wakeel) کام کرتا ہے۔
اگر کوئی قرض لینے والا (جیسے کوئی چھوٹا کاروبار یا کسان) اپنی ادائیگی میں نادہندہ (Default) ہو جاتا ہے تو اس مشترکہ پول سے نقصانات کی بھرپائی کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ نظام طے شدہ اور سود پر مبنی منافع کے بجائے مشترکہ شراکت پر انحصار کرتا ہے اس لیے یہ مستند رسک شیئرنگ کو یقینی بناتا ہے جو سختی سے شریعت کے مطابق ہے۔
SECP Approves First Islamic Risk-Sharing Product to Boost Microfinance
— SEC Pakistan (@SECPakistan) April 4, 2026
The SECP has approved the country’s first Shariah-compliant credit risk-sharing product, enabling Islamic financial institutions to expand financing to underserved sectors such as micro, small and medium… pic.twitter.com/9kTu0wiNQM
نظر انداز کیے گئے شعبوں کو بااختیار بنانا
تاریخی طور پر پاکستان میں کمرشل بینک نادہندہ ہونے کے زیادہ خطرے کی وجہ سے MSMEs اور زرعی شعبے کو قرض دینے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔ سرمائے کی اس کمی نے چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے جو کہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
یہ نیا کریڈٹ رسک شیئرنگ پروڈکٹ قرض دینے والے اداروں کے لیے شریعت کے مطابق ایک حفاظتی جال (Safety net) کے طور پر کام کرتا ہے۔ ڈیفالٹ سے جڑے مالیاتی خطرے کو کم کر کے بینک اور اسلامی مالیاتی ادارے اب چھوٹے کاروباری مالکان اور کسانوں کو قرض دینے میں زیادہ پراعتماد اور آمادہ ہوں گے جنہیں ترقی کرنے کے لیے سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔
ریگولیٹری نگرانی اور گورننس
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ پروڈکٹ اسلامی قوانین کی سختی سے پابندی کرے SECP کی شریعہ ایڈوائزری کمیٹی نے اس فریم ورک کا بغور جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔
منظوری دینے کے ساتھ ساتھ، کمیٹی نے مضبوط گورننس فریم ورک اور مؤثر نفاذ کے لیے سخت دستاویزی معیارات لاگو کرنے کی بھی سفارش کی۔ یہ نگرانی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مشترکہ فنڈز کا انتظام شفاف طریقے سے ہو اور وکالہ ماڈل کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔
سود سے پاک معیشت کی جانب ایک قدم
SMEs کے لیے فوری معاشی فوائد سے ہٹ کر، یہ اقدام ایک وسیع تر قومی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان اپنے پورے مالیاتی انفراسٹرکچر کو سود سے پاک اسلامی بینکنگ سسٹم میں منتقل کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔
روایتی بینکنگ ٹولز کے جدید اور عملی متبادل متعارف کروا کر SECP اور NCGCL یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اسلامی مالیات ایسے جدید اور قابلِ توسیع حل فراہم کر سکتی ہے جو جامع معاشی ترقی کا باعث بنیں۔
مزید تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔
(FAQs)
نیا سود سے پاک کریڈٹ رسک شیئرنگ پروڈکٹ کیا ہے؟
یہ پاکستان کا پہلا شریعت کے مطابق مالیاتی آلہ ہے جسے سود کے بغیر قرض دہندگان کے لیے خطرے کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ (NCGCL) کے تیار کردہ اور SECP سے منظور شدہ اس پروڈکٹ کو روایتی کریڈٹ گارنٹی کے اسلامی متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوگا؟
اس کے بنیادی مستفیدین مائیکرو، سمال، اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) اور زرعی شعبہ ہیں۔ چونکہ یہ پروڈکٹ ڈیفالٹ کے خلاف سیفٹی نیٹ کا کام کرتا ہے، اس لیے بینک اور اسلامی مالیاتی ادارے ان نظر انداز کیے گئے شعبوں کو فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے زیادہ آمادہ ہوں گے۔
شریعت کے مطابق یہ میکانزم کیسے کام کرتا ہے؟
روایتی پریمیم فیس وصول کرنے کے بجائے، حصہ لینے والے ادارے ایک مشترکہ پول میں رضاکارانہ حصہ (تبرع) ڈالتے ہیں۔ NCGCL اس مشترکہ فنڈ کو بطور ایجنٹ (وکالہ) سنبھالتا ہے۔ اگر کوئی چھوٹا کاروبار یا کسان ادائیگی میں ڈیفالٹ کرتا ہے، تو نقصانات اسی مشترکہ پول سے پورے کیے جاتے ہیں، جس سے حقیقی رسک شیئرنگ یقینی بنتی ہے۔
یہ پروڈکٹ پاکستان کی معیشت کے لیے اہم کیوں ہے؟
ماضی میں بینک زیادہ خطرے کی وجہ سے MSMEs اور کسانوں کو قرض دینے سے گریز کرتے تھے۔ یہ پروڈکٹ قرض دہندگان کو شریعت کے مطابق بیک اپ پلان فراہم کر کے اس ہچکچاہٹ کو دور کرتا ہے، جس سے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے شعبوں میں انتہائی ضروری سرمایہ آئے گا۔ یہ پاکستان کی مکمل سود سے پاک بینکنگ سسٹم کی جانب منتقلی کی بھی حمایت کرتا ہے۔
کون یقینی بناتا ہے کہ یہ پروڈکٹ سختی سے اسلامی اصولوں کی پیروی کرے؟
اس پورے فریم ورک کا بغور جائزہ لے کر اسے SECP کی شریعہ ایڈوائزری کمیٹی نے باضابطہ طور پر منظور کیا ہے۔ کمیٹی نے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط گورننس اور سخت دستاویزی معیارات کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔






