معاشی خود مختاری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے اپنے ‘ایمپاور پروجیکٹ’ (Empower Project) کے تحت پنجاب خواتین ٹک شاپس کا ایک شاندار نئے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس کا خیال نہایت سادہ لیکن انتہائی موثر ہے صوبے بھر کے مختلف عوامی بس اسٹاپس پر ٹک شاپس قائم کرنا، جنہیں مکمل طور پر مستحق خواتین چلائیں گی۔
کمپنی نے حال ہی میں اس منصوبے کی اب تک کی کامیابی کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جسے اخوت فاؤنڈیشن (Akhuwat Foundation) کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ اقدام کس طرح نہ صرف خواتین کو روزگار فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے بلکہ مسافروں کے لیے روزمرہ کی شہری سہولیات کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔
تین کامیاب مراحل میں مکمل ہونے والا منصوبہ
ٹک شاپس کا یہ منصوبہ راتوں رات شروع نہیں ہوا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سب کچھ بغیر کسی رکاوٹ کے چلے حکام نے اسے پچھلے چند مہینوں کے دوران تین مختلف مراحل میں شروع کیا۔
پہلا مرحلہ (دسمبر 2025): اس منصوبے کا آغاز پچھلے سال کے آخر میں پہلی 10 ٹک شاپس کی کامیاب تعمیر اور افتتاح کے ساتھ ہوا۔
دوسرا مرحلہ (فروری 2026): اس ابتدائی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید 11 دکانیں مکمل کر کے خواتین کے حوالے کی گئیں۔
تیسرا مرحلہ (مارچ 2026): حال ہی میں تیسرا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے جس میں اس نیٹ ورک میں مزید 11 دکانیں شامل کی گئی ہیں۔
اس آخری مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ہی اب شہر بھر کے مختلف مصروف بس اسٹاپس پر کل 32 ٹک شاپس مکمل طور پر فعال ہو چکی ہیں۔
مسافروں کے لیے عوامی سہولیات میں بہتری
اگرچہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خواتین کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے لیکن عام مسافر بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
حکام نے صرف دکانیں بنا کر کام ختم نہیں کیا۔ ان ٹرانزٹ پوائنٹس کو مزید جدید اور محفوظ بنانے کے لیے انہوں نے ان بس اسٹاپس پر مفت وائی فائی (Wi-Fi) کی سہولت بھی فراہم کی ہے جہاں یہ ٹک شاپس واقع ہیں۔ مزید برآں دکانوں کے ارد گرد سیکیورٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں تاکہ خواتین دکانداروں اور بسوں کا انتظار کرنے والے روزمرہ کے مسافروں، دونوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
خواتین کے لیے معاشی خود مختاری
پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے حکام کے مطابق یہ منصوبہ بیک وقت دو بڑے اہداف حاصل کر رہا ہے۔
پہلا یہ ان خواتین کی براہ راست مدد کرتا ہے جنہیں مالی امداد کی ضرورت ہے اور انہیں روزی کمانے اور معاشی خود مختاری حاصل کرنے کا ایک پائیدار طریقہ فراہم کرتا ہے۔ دوسرا، یہ شہری ٹرانسپورٹ کے مقامات کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ ویران اور خستہ حال بس اسٹاپس پر انتظار کرنے کے بجائے اب شہریوں کو بنیادی سہولیات، اسنیکس اور ایک زیادہ محفوظ اور مربوط ماحول تک رسائی حاصل ہے۔
مستحق امیدواروں کی نشاندہی کرنے کے لیے اخوت فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراک کر کے حکومتِ پنجاب اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کاروبار کے یہ مواقع ان ہی خواتین کو ملیں جنہیں واقعی ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
مزید اپڈیٹس کے لیے براہِ کرم urdu khabar وزٹ کریں۔
(FAQs)
پنجاب کے بس اسٹاپس پر ٹک شاپ کا یہ منصوبہ کیا ہے؟
یہ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے ایمپاور پروجیکٹ کے تحت ایک نیا اقدام ہے۔ اس منصوبے کے تحت عوامی بس اسٹاپس پر ٹک شاپس قائم کی گئی ہیں جنہیں مکمل طور پر مستحق خواتین چلاتی ہیں، جس کا مقصد ان کی معاشی خود مختاری کو فروغ دینا اور انہیں ایک پائیدار روزگار فراہم کرنا ہے۔
اب تک کتنی ٹک شاپس قائم کی جا چکی ہیں؟
تازہ ترین پروگریس رپورٹ کے مطابق، اب تک کل 32 ٹک شاپس کامیابی سے تعمیر کی جا چکی ہیں جو مکمل طور پر فعال ہیں۔ یہ منصوبہ دسمبر 2025 اور مارچ 2026 کے درمیان تین مراحل میں مکمل کیا گیا تھا۔
ان بس اسٹاپس پر کون سی اضافی سہولیات دستیاب ہیں؟
شہری ٹرانسپورٹ کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے، حکام نے ان مخصوص بس اسٹاپس پر مفت وائی فائی (Wi-Fi) سروسز اور سیکیورٹی کیمرے نصب کیے ہیں۔ یہ خواتین دکانداروں اور روزمرہ کے مسافروں، دونوں کے لیے ایک زیادہ محفوظ اور آسان ماحول کو یقینی بناتا ہے۔
ان ٹک شاپس کو خواتین میں تقسیم کرنے میں کون مدد کر رہا ہے؟
پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی اس عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے اخوت فاؤنڈیشن (Akhuwat Foundation) کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کاروبار کے یہ مواقع صرف ان مستحق خواتین کو دیے جائیں جنہیں واقعی مالی امداد کی ضرورت ہے۔






