شہریوں تک بنیادی خدمات کی رسائی کو یقینی بنانے کی مزید کوششوں کے تحت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں اپنی نادرا موبائل رجسٹریشن وینز بھیجے گا۔
اطلاعات کے مطابق یہ موبائل یونٹس 6 اپریل سے 11 اپریل 2026 تک دور دراز علاقوں میں فعال رہیں گے۔ اس پروگرام کا خاص مقصد ان رہائشیوں کو ضروری شناختی اور رجسٹریشن کی خدمات فراہم کرنا ہے جو نادرا کے مستقل مراکز سے دور رہتے ہیں تاکہ جغرافیائی فاصلہ شہری سہولیات کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے۔
شہری نادرا کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنے علاقوں کے لیے مخصوص شیڈول اور درست مقامات چیک کر سکتے ہیں۔
نادرا کے ریگولیٹری اختیارات میں توسیع
اگرچہ موبائل وینز کے اجراء سے رسائی مزید آسان ہو جائے گی لیکن نادرا اپنی کنٹرول اتھارٹی کو بھی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک انتہائی اہم حکومتی بل کی منظوری دی ہے جس کا مقصد نادرا کو شناختی دستاویزات کنٹرول کرنے کے مزید اختیارات دینا اور قومی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی درخواست پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ بل اب آئندہ سینیٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے باقاعدہ قانون کا درجہ دیا جا سکے۔
نادرا کی مجوزہ اہم ترامیم
مجوزہ قانون کے مطابق نادرا کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کسی بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کو 60 دن تک منجمد (بلاک) کر سکے۔
وزارتِ داخلہ کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ شناختی کارڈ ایک انتہائی حساس دستاویز ہے جس کا براہِ راست تعلق قومی سلامتی اور مالیاتی خوشحالی سے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شناختی دستاویزات کا غلط استعمال ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ماضی میں ایسی کوئی واضح قانونی دفعات موجود نہیں تھیں جو نادرا کو فوری کارروائی کے قابل بنا سکتیں جس کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کو قانونی خامیوں کا فائدہ اٹھانے اور کارروائی کو التوا میں ڈالنے کا موقع ملتا تھا۔
ان تبدیلیوں کے بعد حکام کا ماننا ہے کہ نادرا مشکوک، جعلی یا غیر محفوظ شناختی ریکارڈ سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔
نادرا ای-سہولت (e-Sahulat) نیٹ ورک میں توسیع
موبائل وینز کے علاوہ، نادرا نے اپنے ای-سہولت فرنچائز نیٹ ورک کے ذریعے بھی عوام کے لیے اپنی خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
منتخب خدمات کو مزید 1,000 ای-سہولت فرنچائزز تک بڑھا دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اب شہری ملک بھر میں تقریباً 3,000 ای-سہولت مراکز پر نادرا کی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ان مراکز پر پیش کی جانے والی خدمات درج ذیل ہیں:
10 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ب فارم (B-Forms) کا اجراء۔
زائد المیعاد (Expired) قومی شناختی کارڈز کی تجدید۔
کارڈ گم ہونے کی صورت میں ڈپلیکیٹ (Duplicate) شناختی کارڈ کا حصول۔
فوت شدہ خاندانی افراد کے شناختی کارڈز کی منسوخی۔
یہ توسیعی خدمات کراچی، لاہور، اسلام آباد، حیدرآباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہری مراکز کے ساتھ ساتھ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے متعدد اضلاع میں بھی کام کر رہی ہیں۔
اس پراجیکٹ سے روایتی نادرا دفاتر میں لوگوں کے ہجوم اور لمبی قطاروں کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور یہ انتہائی ضروری رجسٹریشن خدمات ان لوگوں کے قریب لائی جائیں گی جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔
(FAQs)
نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینز کب کام کر رہی ہیں؟
نادرا نے 6 اپریل سے 11 اپریل 2026 تک پاکستان بھر کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے اپنے موبائل رجسٹریشن یونٹس کا شیڈول جاری کیا ہے۔
میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کوئی موبائل وین میرے علاقے میں آ رہی ہے؟
شہری نادرا کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر موبائل رجسٹریشن وینز کے درست شیڈول اور مقامات کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
شناختی کارڈز (CNICs) کے حوالے سے نادرا کو کون سے نئے اختیارات مل رہے ہیں؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے منظور شدہ ایک نئے حکومتی بل کے تحت، نادرا کو کسی بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کو 60 دن تک بلاک کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مشکوک یا جعلی شناختی ریکارڈ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے۔
نادرا ای-سہولت مراکز پر فی الحال کون سی خدمات دستیاب ہیں؟
شہری ای-سہولت مراکز پر کئی اہم خدمات استعمال کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں: 10 سال تک کے بچوں کے لیے ب فارم کا حصول، زائد المیعاد شناختی کارڈز کی تجدید، گم ہونے کی صورت میں ڈپلیکیٹ کارڈ بنوانا، اور فوت شدہ افراد کے کارڈز کی منسوخی۔
میں نادرا کا ای-سہولت مرکز کہاں تلاش کر سکتا ہوں؟
نادرا نے اپنا نیٹ ورک ملک بھر میں تقریباً 3,000 ای-سہولت فرنچائزز تک پھیلا دیا ہے۔ یہ مراکز کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں دستیاب ہیں۔






