پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے ایم ڈی کیٹ پاسنگ فیصد میں 3٪ تک کمی کی اجازت دے دی ہے، میڈیکل جامعات کو باضابطہ ہدایت جاری اس ایک بار کی رعایت کا مقصد 2025-26 کے تعلیمی سیشن کے لیے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں ایم بی بی ایس (MBBS) اور بی ڈی ایس (BDS) پروگرامز میں خالی رہ جانے والی نشستوں کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔
یہ فیصلہ پارلیمانی صحت کمیٹیوں کی پرزور سفارشات کے بعد باضابطہ طور پر کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ میڈیکل اداروں میں دستیاب نشستیں ضائع نہ ہوں۔
ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کا نیا پاسنگ کرائیٹیریا
اس نئے انتظام کے تحت، جامعات کو ایم ڈی کیٹ کے پاسنگ مارکس کم کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ معیاری کرائیٹیریا کے تحت تمام اہل امیدواروں پر غور کرنے کے بعد بھی نشستیں خالی رہ جائیں۔ نظر ثانی شدہ پاسنگ فیصد درج ذیل ہے:
ایم بی بی ایس (MBBS – بیچلر آف میڈیسن، بیچلر آف سرجری): کم کر کے 52% کر دیا گیا ہے۔
بی ڈی ایس (BDS – بیچلر آف ڈینٹل سرجری): کم کر کے 47% کر دیا گیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ ایڈمیشن ریگولیشنز 2025 کے معیاری اصولوں کے تحت پہلے سے مکمل ہونے والے تمام داخلے مکمل طور پر درست اور باقاعدہ تصور کیے جائیں گے۔

پہلے سے موجود اہل امیدواروں کے لیے ترجیح
داخلے کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو برقرار رکھنے کے لیے پی ایم ڈی سی نے جامعات کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ نئے کم شدہ پاسنگ کرائیٹیریا کو لاگو کرنے سے پہلے اہل طلباء کے موجودہ پول (pool) کو ترجیح دیں۔ یہ ترجیحی نظام خاص طور پر نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں خالی نشستیں پُر کرتے وقت انتہائی اہم ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کمی صرف موجودہ تعلیمی سال کے لیے ایک بار کی رعایت ہے۔
پی ایم ڈی سی کا ٹیوشن فیس کم کرنے کا مطالبہ
پاسنگ مارکس میں تبدیلی کے علاوہ پی ایم ڈی سی نے نجی میڈیکل اداروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنی ٹیوشن فیس کم کرنے پر غور کریں۔ موجودہ مقررہ فیس کے ڈھانچے میں کمی کر کے کونسل کو امید ہے کہ اس سے طبی تعلیم کو زیادہ سستا بنایا جا سکے گا اور مختلف مالی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مستحق طلباء کے لیے معیاری طبی تعلیم تک رسائی کو وسیع کیا جا سکے گا۔
پی ایم ڈی سی کی آئندہ ڈیڈ لائنز اور خدشات
صوبائی محکمہ صحت اور داخلہ دینے والی جامعات کو ان نئی ہدایات کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ داخلے محفوظ کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن 15 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اگرچہ یہ فیصلہ طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند کئی طلباء کے لیے امید کی کرن لایا ہے لیکن اس نے ماہرینِ تعلیم کے درمیان ایک بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کی پاسنگ فیصد کم کرنے سے طبی تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور اس سے پاکستانی ڈاکٹروں کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں، پی ایم ڈی سی کے ترجمان نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تمام سفارشات کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے اور حتمی فیصلے کونسل کی مکمل منظوری کے بعد ہی کیے جاتے ہیں۔






