عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں ڈیزل کی قیمتیں مسلسل اور غیر معمولی حد تک بلند ہیں۔ عام شہریوں، کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے اس کا مطلب ہوشربا مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق اس بحران کی وجہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نہیں ہیں بلکہ حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے قیمتوں کے تعین کا ایک انتہائی ناقص طریقہ کار ہے۔ اس نظام کو سمجھنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صارفین ایک غیر منصفانہ مالی بوجھ کیوں اٹھا رہے ہیں۔
اوگرا (OGRA) کی جانب سے قیمتوں کے تعین کا ناقص طریقہ کار
اس مسئلے کی اصل جڑ اس بات میں ہے کہ پاکستان اپنا ڈیزل کہاں سے حاصل کرتا ہے اور اس کی قیمت کیسے طے کرتا ہے۔ پاکستان اس وقت اپنی ضرورت کا تقریباً پچھتر فیصد (75%) ڈیزل مقامی ریفائنریز کے ذریعے ملک کے اندر ہی پیدا کرتا ہےاور ملکی طلب پوری کرنے کے لیے صرف باقی ماندہ پچیس فیصد (25%) بین الاقوامی مارکیٹوں سے درآمد کرتا ہے۔ تاہم ان دونوں ذرائع کی بنیاد پر ایک منصفانہ، اوسط قیمت نکالنے کے بجائے اوگرا تمام ڈیزل کی ریٹیل قیمت کو مکمل طور پر درآمد شدہ حصے کی بلند قیمت کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔ چونکہ درآمد شدہ ڈیزل مقامی طور پر پیدا ہونے والے ڈیزل کے مقابلے میں ہمیشہ نمایاں طور پر زیادہ مہنگا ہوتا ہے اس لیے ملکی پیداوار پر بھی درآمدی ریٹ لاگو کرنے سے ہر صارف کے لیے پٹرول پمپ پر قیمتیں خود بخود اور مصنوعی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔
مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی اصل قیمت
اس اضافی وصولی کے بڑے پیمانے کو سمجھنے کے لیے سابق وزیر خزانہ کی جانب سے بتائے گئے اصل اعداد و شمار کو دیکھنا ہوگا۔ مقامی طور پر ریفائن کیے گئے ڈیزل کی اصل قیمت جس میں خام تیل کی قیمت، ریفائننگ کا عمل اور معیاری منافع (مارجن) شامل ہے تقریباً 350 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اس کے برعکس اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری ریٹیل قیمت جو کہ درآمدی ڈیزل پر مبنی ہے 496 روپے فی لیٹر کی حیران کن سطح پر ہے۔ قیمتوں کے اس بڑے فرق کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی صارفین اس ڈیزل کے لیے جو یہیں ملک میں تیار ہوتا ہے تقریباً 150 روپے فی لیٹر کا غیر منصفانہ اضافی بوجھ ادا کر رہے ہیں۔
If the pricing formula is not changed, next week’s diesel price is projected to be Rs 616 per litre as @AliKhizar has tweeted as per PSO projection. We need some basic competence in OGRA and govt to avert this self-inflicted disaster. Optics about austerity aren’t enough.
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) April 7, 2026
In… pic.twitter.com/qR9TsaJ0gd
ریفائنریز غیر معمولی منافع کیوں کما رہی ہیں؟
بنیادی طور پر قیمتوں کا یہ طریقہ کار حکومت کی جانب سے اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ مقامی ریفائنریز کو تھوڑا سا اضافی منافع دیا جا سکے۔ اس کے پیچھے یہ منطق تھی کہ یہ مالی بونس انہیں اپنی پرانی مشینری کو اپ گریڈ کرنے اور بہتر کم سلفر والا ڈیزل پیدا کرنے کی ترغیب دے گا۔ بدقسمتی سے عالمی سطح پر ہونے والی رکاوٹوں خاص طور پر ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر خام تیل اور کم سلفر والے ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق بہت بڑھ گیا ہے۔ چونکہ یہ نظام بین الاقوامی درآمدی قیمتوں کے ساتھ سختی سے جڑا ہوا ہے اس لیے جو ایک چھوٹی سی ترغیب سمجھی گئی تھی، وہ اب پاکستانی عوام کی جیبوں پر بھاری بوجھ ڈال کر مقامی ریفائنریز کے لیے غیر معمولی اور بغیر محنت کے منافع میں تبدیل ہو چکی ہے۔
قیمتیں کم کرنے کی ایک سادہ ریاضیاتی حکمت عملی
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی پیچیدہ معاشی ہیر پھیر کی ضرورت نہیں ہے۔ مفتاح اسماعیل نے قیمتوں کی اس زیادتی کو کم کرنے کے لیے ایک عارضی لیکن انتہائی موثر اقدام تجویز کیا، جو خاص طور پر اس وقت فصلوں کی کٹائی کے سیزن کے دوران انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ درآمدات کو سینٹرلائز کیا جائے اور صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو وہ معمولی فیصد ڈیزل درآمد کرنے کی اجازت دی جائے جس کی ملک میں کمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مقامی ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عرب لائٹ خام تیل کی اصل قیمت اور معیاری مارجن کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے جس سے مقامی پیداوار کو درآمدی ڈیزل کی بڑھی ہوئی قیمت سے بالکل الگ کر دیا جائے۔
ایک منصفانہ اوسط قیمت کے ماڈل کا نفاذ
ایک بلینڈڈ (اوسط) پرائسنگ ماڈل استعمال کر کے حکومت عوام کو زبردست ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔ اگر مقامی ڈیزل کی قیمت 350 روپے ہے اور درآمدی ڈیزل کی 500 روپے ہے، تو اوگرا اوسط ریٹیل قیمت 395 روپے فی لیٹر مقرر کر سکتا ہے۔ اس کے بعد حکومت تمام ڈیزل کی فروخت پر 45 روپے کا ایک چھوٹا سا لیوی (ٹیکس) وصول کر سکتی ہے تاکہ پی ایس او (PSO) کو مہنگے حصے کی درآمد پر آنے والی اضافی لاگت کا خصوصی طور پر معاوضہ دیا جا سکے۔ صرف یہ سادہ سا حساب لگانے اور لاگت کی اوسط نکالنے سے، عام صارف کے لیے ڈیزل کی قیمت میں راتوں رات تقریباً 100 روپے فی لیٹر کی کمی ہو جائے گی، جس سے ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کو فوری ریلیف ملے گا۔
پٹرولیم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی فوری ضرورت
موجودہ پرائسنگ فارمولا غیر منصفانہ طور پر زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر بوجھ ڈال رہا ہے جو براہ راست پورے ملک میں خوراک، مال برداری اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے سختی سے سفارش کی کہ حکومت ان سیدھے سادے حسابی حلوں کو فوری طور پر اپنائے اور مئی کے آخر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ (deregulate) کرنے کی طرف بڑھے۔ جب تک حکومت اس تکنیکی خامی کو دور نہیں کرتی اور مقامی پیداوار پر درآمدی قیمتوں کا اطلاق بند نہیں کرتی پاکستانی عوام اپنے روزمرہ کے ایندھن پر ایک بھاری اور چھپا ہوا ٹیکس ادا کرتے رہیں گے۔
مزید اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






