سابق وزیراعظم عمران خان کو حال ہی میں آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اکیلوژن (CRVO) کی تشخیص کے بعد فوری طور پر پمز (Pims) ہسپتال منتقل کیا گیا۔
طبی ماہرین نے اس حالت کو شریانوں کی بیماریوں کی علامت قرار دیا ہے اور 74 سالہ لیڈر کے دل اور دماغ کی صحت کی سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سینٹرل ریٹینل وین اکیلوژن (CRVO) کیا ہے؟
ڈاکٹرز کے مطابق CRVO ایک ایسا عارضہ ہے جو عام طور پر بڑی عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آنکھ کے پردے (ریٹینا) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ (Vein) بند ہو جاتی ہے جس کی وجہ عام طور پر خون کا جمنا (Clot) ہوتا ہے۔
نقصان: اس رکاوٹ سے خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے جس سے ریٹینا میں سوجن، سیال کا اخراج اور آنکھ کے اندر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔
نتیجہ: مریض کی بینائی اچانک یا آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے۔
وجوہات: اس کا تعلق ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، ذیابیطس اور دل کے امراض سے ہے۔
علاج فوری کیوں ضروری تھا؟
ڈاکٹرز نے عمران خان کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ اگر CRVO کا علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
"100 ڈے گلوکوما” کا خطرہ: ماہرین چشم کے مطابق علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کو نیو ویسکولر گلوکوما ہو سکتا ہے جس میں آنکھ کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
خطرناک وارننگ: ماہرین کا کہنا ہے کہ CRVO صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جسم کی شریانوں کا آئینہ ہے۔ ریٹینا میں رکاوٹ کا مطلب دل یا دماغ کی شریانوں میں ممکنہ مسائل ہو سکتے ہیں جس کے لیے فوری جائزے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پمز میں ہونے والا پروسیجر
عمران خان کا پمز میں رات گئے 20 منٹ کا پروسیجر کیا گیا۔
تشخیص: اڈیالہ جیل میں معائنے کے دوران ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی نوٹ کی گئی۔
علاج: انہیں Anti-VEGF انجکشن لگایا گیا۔ یہ ایک معیاری علاج ہے جو ریٹینا کی سوجن کم کرنے اور خون کے رساؤ کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔مستقبل کا لائحہ عمل: ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ریٹینا کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے انہیں ممکنہ طور پر ماہانہ بنیادوں پر مزید انجکشنز کی ضرورت ہوگی۔






