قومی طبی انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر لاجسٹکس، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور وزارتِ صحت کے تزویراتی کوریڈورز سے عوامی صحت کو مستحکم کرنے کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترین طبی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ملک کے معروف پبلک ہیلتھ ماہرین اور ڈاکٹرز نے باقاعدہ طور پر پیکڈ فوڈ وارننگ لیبل لازمی مہم کا فریم ورک لائیو کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
20 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے طبی لاگز کے مطابق اس بچاؤ مہم کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر پیکڈ فوڈ فوڈ وارننگ لیبل لازمی مہم کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ آفیشل ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں ہونے والی مجموعی اموات میں سے 47.22 فیصد اموات غیر متعدی امراض یعنی ذیابیطس، موٹاپا اور امراضِ قلب کی وجہ سے ریکارڈ ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانوں کے پیچھے چھپے پیچیدہ غذائی چارٹس کو پڑھنا عام کسٹمر کے لیے مینوئل التوا کا سبب بنتا ہے لہٰذا پیکٹ کے فرنٹ پر شوگر، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی پراعتماد وارننگ کٹس پے کرنا لازمی ہونا چاہیے تاکہ مینوئل لوپ ہولز یکسر بلاک ہو سکیں جو پبلک ہیلتھ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح مانا گیا ہے۔
وزارتِ صحت پالیسی، مینوفیکچررز ری فارمولیشن اور ڈبلیو ایچ او لاگز کا آڈٹ
طبی مینیجرز کے مطابق اس اسمارٹ اسکرٹنی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ فوڈ کمپنیاں اپنے پراڈکٹس میں غیر صحت بخش اجزاء کا حجم کم کرنے پر مجبور ہوں گی۔ وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے بھی ان شواہد پر مبنی غذائی پالیسیوں کو آٹو لاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صحت کے خطرات اور مجوزہ لیبلنگ پیرامیٹرز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ہیلتھ پراجیکٹ لاگ کوڈ | مقررہ طبی و امتحانی اشارے | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| غیر متعدی امراض | 47.22% ملکی اموات کا بوجھ | دل کے عوارض پلس ٹائپ 2 ذیابیطس کے لاگز لائیو ہالٹ کرنے کی مہم۔ |
| فرنٹ پیج لیبلنگ گرڈ | شوگر، سالٹ پلس فیٹس اسکیننگ | پیپر لیس موڈ میں سادہ اور آسان فہم انتباہی علامات آٹو لاک۔ |
| معاون ہیلتھ کلاؤڈ | غذائی تعلیم پلس عوامی آگاہی | حکومت، ڈاکٹرز اور اسٹیک ہولڈرز کے مابین لائیو کوآرڈینیشن الائن۔ |






