پنجاب کے پبلک ٹرانزٹ انفراسٹرکچر، میٹروپولیٹن سٹی لاجسٹکس، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور راولپنڈی بلدیاتی فنڈز کے تزویراتی کوریڈورز سے مسافروں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترقیاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ریٹائرڈ) ندیم ناصر کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ کی جدید ترین اور محفوظ فیس لفٹ کے لیے میگا اپ گریڈیشن پراجیکٹ کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے۔
15 اکتوبر 2026 کو میٹرو ٹرانزٹ پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے فیسکل لاگز کے مطابق اس تزویراتی انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ اپ گریڈ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ سال 1976 میں قائم ہونے والا یہ تاریخی ٹرمینل فی الوقت 40 ہزار سے زائد روزمرہ مسافروں کو مینوئل سروسز پے کرتا ہے۔ نئے مینوفیکچرڈ پلان کے تحت بس اسٹینڈ کو کلاس-سی سے کلاس-بی پوزیشن پر اپ گریڈ کرتے ہوئے بس بے کی تعداد بڑھا کر 80 کی جائے گی۔ ٹریفک جام اور مینوئل التوا کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنے کے لیے یہاں کمپیوٹرائزڈ ٹکٹنگ، لائیو شیڈولنگ اور ٹریول آئی ٹریکنگ نیٹ ورک کو آٹو لاک کیا جائے گا جو پبلک سیفٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
بلدیاتی فنڈز، سیکیورٹی آڈٹ اور مسافر لاؤنجز کا آڈٹ
مالیاتی لاگز کے مطابق ٹرمینل نے پچھلے آٹھ سالوں میں 66 کروڑ 82 لاکھ روپے کا مجموعی ریونیو مینوفیکچر کیا جس میں سے 43 کروڑ 10 لاکھ روپے آر ایم سی کے فنڈ میں محفوظ ہیں۔ سیکیورٹی گرڈ کو فول پروف بنانے کے لیے 25 لائیو گارڈز، مضبوط باؤنڈری وال اور سینٹرل کنٹرول روم فعال کیا جا رہا ہے۔
ٹرمینل کے اپ گریڈیشن پیرامیٹرز اور مالیاتی والیم کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ٹرانزٹ پراجیکٹ لاگ کوڈ | موجودہ و مجوزہ ہدف حجم | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| ٹرمینل کلاس درجہ بندی | کلاس-سی سے کلاس-بی ماڈل | جدید بائی لاز اور اسمارٹ اسکرٹنی کے تحت کلاؤڈ الائنمنٹ۔ |
| مجموعی بس بے تعداد | 80 اسمارٹ بے پر آٹو لاک | ٹرانزپشاور اور پی یو ایم اے طرز پر ڈیجیٹل کٹس فعال۔ |
| محفوظ بلدیاتی فنڈ لاگ | 431 ملین پاکستانی روپے | پیپر لیس موڈ میں ترقیاتی اخراجات کی لائیو ٹریکنگ پروٹوکول۔ |
ٹرمینل پر معذور افراد کے لیے خصوصی ریمپس، جدید ترین میل و فیمیل ویٹنگ لاؤنجز اور ڈرائیورز کے لیے آرام گاہیں مینوفیکچر کی جائیں گی۔






