پاکستان کے کارپوریٹ فنانشل انفراسٹرکچر، بینکنگ ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک سروس ڈیلیوری اور وفاقی محتسب کے تزویراتی کوریڈورز سے صارفین کے تحفظ کا سب سے بڑا اور پراعتماد معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ بینکنگ محتسب پاکستان نے سال 2026 کے پہلے نو مہینوں کے دوران ریکارڈ کارروائی کرتے ہوئے 29,001 شکایات کا فیصلہ صارفین کے حق میں سنایا ہے جس کے نتیجے میں بینکوں کو 1.2 ارب روپے کی بھاری رقم صارفین کو واپس کرنا پڑی ہے۔
کراچی سے جاری کردہ آفیشل دستاویزی لاگز کے مطابق اس گرینڈ فیسکل ریکوری کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر بینکنگ محتسب صارف شکایات ریفنڈ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ یکم جنوری سے 30 ستمبر کے مابین محتسب آفس کو مجموعی طور پر 33,625 نئی شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 5,927 شکایات براہِ راست پرائم منسٹر پورٹل کے ذریعے سنک کی گئی تھیں۔ بینکنگ محتسب سراج الدین عزیز نے صارفین کی اس لکویڈیٹی کو واپس دلا کر مینوئل فراڈ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا ہے جو ملکی فنانشل انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
سائبر کرائم پروٹوکول اور سیکیورٹی الرٹس کا آڈٹ
بینکنگ محتسب سراج الدین عزیز نے اوپن مارکیٹ کے کسٹمرز کو سخت ہائی ٹیک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس کی معلومات اور پاس ورڈز کسی بھی غیر متعلقہ فریق کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔ انہوں نے موبائل فونز پر آنے والے نامعلوم لنکس پر کلک کرنے سے منع کیا ہے۔
صارفین کی شکایات اور سیکیورٹی پروٹوکول کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| بینکنگ مانیٹرنگ لاگ کوڈ | حاصل کردہ فیسکل و شکایات حجم | لازمی ریگولیٹری و سیکیورٹی پروٹوکول رول |
| کل منظور شدہ ریفنڈز | 1.2 ارب پاکستانی روپے (ریکارڈ) | صارفین کے اکاؤنٹس میں کیش لیس کریڈٹ آٹو لاک۔ |
| موصل شدہ کل شکایات | 33,625 نئے پریمیم لاگز درج | پی ایم پورٹل سے 5,927 کیسز کی لائیو اسکرٹنی کٹس فعال۔ |
| سائبر فراڈ انٹرسیپٹ | مشتبہ کالز اور فشنگ لنکس | نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو رپورٹ۔ |
محتسب مینیجرز کے مطابق کسی بھی مشتبہ کال کی صورت میں صارفین فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک کی ہیلپ لائن پر ہینڈ شیک کریں اور فراڈ نمبرز کو اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی پورٹلز پر رجسٹر کروائیں۔






