پاکستان کے انرجی انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک فنانس مینجمنٹ، ٹریڈ لاجسٹکس اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے ایندھن کے نرخوں کے مینوفیکچرڈ ماڈل کے حوالے سے ایک انتہائی ہنگامی، اہم اور اب تک کا سب سے بڑا مالیاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی لائیو ایڈوائزری کے مطابق موٹر سپرٹ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ کرتے ہوئے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے نئے ٹریف رولز آٹو لاک کر دیے ہیں جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ انڈیکس پر مینوئل دباؤ شدید بڑھ گیا ہے۔
6 اکتوبر 2026 کو اوگرا کے پورٹل اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیے گئے دستاویزی لاگز کے مطابق اس نئی فیسکل مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان پٹرولیم نرخوں میں اضافہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت پٹرول کی قیمت میں 0.88 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کا نیا ریٹ 393.64 روپے فی لیٹر پر فائنل ہوا ہے۔ دوسری طرف ہائی اسپیڈ ڈیزل کے کسٹمرز کو جزوی ریلیف پے کرتے ہوئے اس کی قیمت میں 1.88 روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل کا نیا انڈیکس 397.76 روپے فی لیٹر پر لاک کیا گیا ہے جو ملکی معیشت کی فیسکل لکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
روزانہ پرائس فکسنگ فریم ورک اور پٹرولیم قیمتوں کا آڈٹ
انڈسٹریل مینیجرز کے مطابق، جب سے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مینوئل پندرہ روزہ نظام سے بدل کر سوفٹ وئیر بیسڈ روزانہ اپ ڈیٹ کے کلاؤڈ نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے تب سے اب تک پٹرول کی مجموعی قیمت میں 82.33 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 74.46 روپے فی لیٹر کا ریکارڈ عروج دیکھا گیا ہے۔ یہ مربوط اور پیپر لیس فریم ورک بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو سیکنڈوں میں مقامی مارکیٹ میں منتقل کرتا ہے تاکہ فنانشل کیش بلیڈ کو روکا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں کی ٹائم لائن کا تفصیلی موازنہ درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو سنک ہے:
| کاروباری تاریخ لاگ | آفیشل دن انڈیکس | پٹرول نرخ | ڈیزل نرخ |
| 05 اکتوبر 2026 | پیر (حالیہ ترین اضافہ) | روپے 393.64 | Rs. 397.76 (کمی لاگ) |
| 02 اکتوبر 2026 | جمعہ | روپے 392.76 | روپے 399.64 |
| 01 اکتوبر 2026 | جمعرات | روپے 390.66 | روپے 399.34 |
| 30 ستمبر 2026 | بدھ | روپے 387.40 | روپے 400.35 |
| 15 ستمبر 2026 | منگل | روپے 384.34 | روپے 415.83 |
| 01 ستمبر 2026 | منگل | روپے 343.87 | روپے 370.92 |
| 11 جولائی 2026 | روزانہ پرائسنگ سے قبل | روپے 310.71 | روپے 323.30 |
مانیٹری ٹائٹننگ اور ملکی سپلائی سائیڈ مہنگائی پر کڑی مانیٹرنگ
آڈٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کے وسط میں جب پٹرول محض 310.71 روپے پر وائٹ لسٹ تھا وہاں سے اکتوبر کے آغاز تک اسمارٹ نفاذ کے تحت قیمتیں مینوفیکچر کی گئیں۔ اوگرا مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ روزانہ پرائس ایکشن اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی کو مضبوط کرتا ہے اور بلیک مارکیٹنگ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیتا ہے کیونکہ اب کوئی بھی پٹرول پمپ مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے غیر قانونی فنڈز اکٹھے نہیں کر سکتا۔
اسمارٹ ٹرانسپورٹ پرائس انڈیکس کے مینیجرز نے خبردار کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے جو ملکی ہیومن انڈیکس اور پبلک ٹرسٹ ریٹنگ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ حکومتِ پنجاب اور وفاقی سیلز نیٹ ورکس اب جیو لوکیشن کلاؤڈ میپس کے ذریعے کرایوں کی لائیو اسکرٹنی کر رہے ہیں تاکہ عام شہریوں کو کسی بھی مینوئل دباؤ سے محفوظ رکھا جا






