پاکستان کے زرعی انفراسٹرکچر، فوڈ سیکیورٹی، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، پبلک سروس ڈیلیوری اور بین الاقوامی تجارتی کوریڈورز سے ملکی برآمدات کو بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی، انقلابی اور اب تک کا سب سے بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اعلیٰ نسل کے جانوروں کی ڈیوٹی فری درآمد اور اس سیکٹر کو مکمل طور پر کارپوریٹ لائنز پر ریمڈل کرنے کے انقلابی وائٹ لسٹڈ پلان کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے تاکہ گوشت اور ڈیری مصنوعات کے عالمی مارکیٹ انڈیکس پر ملکی گرفت مضبوط کی جا سکے۔
6 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد جاری کردہ آفیشل دستاویزی لاگز کے مطابق اس میگا پراجیکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر لائیو اسٹاک امپورٹ ڈیوٹی فری اسکیم کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے سول اور پرائیویٹ سیکٹر کے مینیجرز کو پابند کیا ہے کہ وہ نان بینکنگ فنانشل ریفارمز کے تحت لائیو اسٹاک انڈسٹری کو اپ گریڈ کریں اور اگلے دو ہفتوں کے اندر ملک سے منہ کھر کی بیماری کے جڑ سے خاتمے کا ایک جامع اسمارٹ روڈ میپ پیش کریں۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف روایتی سپلائی چین کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور معاشی طاقت کو مستقل طور پر فروغ دینا ہے۔
اسمارٹ اینیمل ٹیگنگ سسٹم اور 5.5 ٹریلین مالیت کے لائیو اسٹاک اثاثوں کا آڈٹ
سرکاری مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو سنک کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 245 ملین جانوروں کا ایک بہت بڑا فلیٹ موجود ہے جس کی مجموعی فیسکل مالیت 5.5 ٹریلین روپے لاک کی گئی ہے۔ یہ سیکٹر ملکی معیشت کا 14.97 فیصد اور کل زرعی اکانومی کا 63.6 فیصد بنتا ہے لیکن مینوئل اور چھوٹی فارمنگ کے باعث اس کی حقیقی لکویڈیٹی فیز آؤٹ ہو رہی تھی۔
نئی کارپوریٹ پالیسی اور قومی پیداواری اثاثوں کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک ہے:
| لائیو اسٹاک انڈسٹری پیرامیٹر لاگ | سالانہ پیداواری والیم حجم | جدید ڈیجیٹل و ریگولیٹری پروٹوکول رول |
| قومی دودھ کی پیداوار | 74.69 ملین ٹن | اسمارٹ فیڈلوٹ فارمنگ کٹس کا نفاذ |
| مجموعی گوشت کی پیداوار | 6.31 ملین ٹن | بین الاقوامی مسابقتی ٹریف رولز پر منتقلی |
| جدید اینیمل ٹیگنگ سسٹم | تمام درآمدی برانڈڈ نسلوں پر لازمی | جیو لوکیشن کلاؤڈ اور لائیو ٹریس ایبلٹی |
| مسلم ہاؤس ہولڈز کسٹمر لاگ | 8 ملین دیہی خاندان وابستہ | کیش لیس فنڈز اور مائیکرو فنانس معاونت |
وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ ڈیوٹی فری امپورٹ کیے جانے والے اعلیٰ پیداواری جانوروں کو خصوصی برآمدی فارمز میں رکھا جائے گا جہاں فیکٹری لیول اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی کے تحت ان کی افزائش کی جائے گی اور حلال سرٹیفیکیشن کے بعد بیرونی ممالک پے کیا جائے گا۔
عالمی منڈیوں تک رسائی اور سلاٹر ہاؤسز کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن
مالیاتی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات کا حجم 530 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا جس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک (متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر) کے پورٹلز پر آٹو ریجیکٹ کے بغیر کلیئر ہوا۔ اب وزارتِ فوڈ سیکیورٹی ملکی برآمدی کوریڈور کو ملائیشیا، چین اور دیگر بڑی یورپی مارکیٹس تک پھیلانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیزیز سرویلنس سوفٹ وئیرز نصب کر رہی ہے۔
تمام بڑے سلاٹر ہاؤسز کی بین الاقوامی سرٹیفیکیشن اور مستقل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ معیار پر کوئی مینوئل التوا یا سمجھوتہ نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور ڈی بوننگ ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس مینوفیکچر کی جا سکیں جو ملکی ہیومن انڈیکس اور کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کی گئی






