پاکستان کے فنانشل ریگولیٹری انفراسٹرکچر، بینکنگ انڈسٹری، ڈیجیٹل پیمنٹ کوریڈورز اور میکرو اکانومی کے تزویراتی زونز سے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم، ہنگامی اور بڑا ریگولیٹری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کے ریوینیو اور ٹیکس اہداف کو بروقت آٹو لاک کرنے کے لیے صوبے بھر کے تمام تجارتی بینکوں کی برانچز کے مینوئل اوقات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
سرکاری مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بدھ 30 ستمبر 2026 کو تمام بینکوں کے کسٹمرز کو یہ اسمارٹ سہولت دی جا رہی ہے کہ وہ رات گئے تک اپنے سرکاری واجبات جمع کرا سکیں۔ اس تاریخی انتظامی اقدام کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر بینکوں کے اوقات کار میں توسیع کا ڈیجیٹل مانیٹرنگ فریم ورک لائیو ہو چکا ہے۔ اس ہنگامی پراجیکٹ کا بنیادی ہدف نان فائلرز اور فائلرز کو آخری تاریخ پر کسی بھی نیٹ ورک ٹائم آؤٹ یا مینوئل لوپ ہولز سے بچانا ہے تاکہ پہلی سہ ماہی کے ٹیکس ہداف کو طویل مدتی استحکام فراہم کیا جا سکے۔
ایف بی آر کی درخواست اور نفٹ اسپیشل کلیئرنگ رولز کا آڈٹ
وفاقی وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آفیشل درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان اپنے کاؤنٹر اوور پیمنٹ مینوئل کو آسانی سے پے کر سکیں۔
اس نئے اسمارٹ بینکنگ آپریشنز کے تین بنیادی اور ڈیجیٹل پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر مینوفیکچر کیے گئے ہیں
رات 10 بجے تک لائیو سروسز: تمام تجارتی بینکوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان کا عملہ 30 ستمبر کی رات 10:00 بجے تک کاؤنٹرز پر موجود رہے گا اور تمام مینوئل چالان آٹو سبمٹ کرے گا۔
نفٹ کلیئرنگ لوپ کا نفاذ: نیشنل انسٹی ٹیوشنل فیسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سرکاری ٹرانزیکشن لاگز کی اسپیشل کلیئرنگ کے لیے اپنے سوفٹ ویئر سسٹمز کو اس وقت تک لائیو سرگرم رکھے جب تک تمام چیکس کا آڈٹ مکمل نہیں ہو جاتا۔
کیش لیس اور پیپر لیس کلیئرنس: آخری لمحات میں بینکوں پر مینوئل بھیڑ کو کم کرنے کے لیے نفٹ کا مرکزی الگورتھم تمام کلیئرنگ ہاؤسز کو خودکار طریقے سے آٹو سنک کرے گا۔
ڈیجیٹل پیمنٹ چینلز کی 24 گھنٹے بلا تعطل مانیٹرنگ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام تجارتی بینکوں کے آئی ٹی مینیجرز کو ایک اور سخت ریگولیٹری مینوئل جاری کیا ہے جس کے تحت 30 ستمبر کو کسی بھی ڈیجیٹل کوریڈور میں خرابی کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا گیا ہے۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کسٹمرز کو پریمیم کسٹمر سپورٹ فراہم کریں اور درج ذیل اسمارٹ چینلز کو 100 فیصد فعال رکھیں:
موبائل ایپس اور انٹرنیٹ بینکنگ: عازمینِ ٹیکس اپنے موبائل فون سے راست کیو آر کوڈ یا براہِ راست ایف بی آر پورٹل کے ذریعے اپنے فنانشل فنڈز کیش لیس موڈ میں پے کر سکتے ہیں۔
اے ٹی ایم نیٹ ورکس اور آن لائن پورٹلز: تمام شہروں میں اے ٹی ایم مشینوں کے اندر کیش کی دستیابی اور سرور اپ ٹائم کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ فنڈز کی منتقلی میں کسی بھی لوپ ہول کا خدشہ صفر رہے۔
یہ اسمارٹ اور مربوط نظام نہ صرف ٹیکس وصولی کے انڈیکس کو بہتر بنائے گا بلکہ بین الاقوامی دنیا اور آئی ایم ایف کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج ایک ہائی ٹیک اور ڈیجیٹل ریاست کے طور پر مستقل طور پر فروغ دے گا۔






