پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ائربلو نے سعودی عرب جانے والے حج اور عمرہ زائرین کی سفری دستاویزات، بائیومیٹرک اسکیننگ اور ہیلتھ پروٹوکولز کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی ریگولیٹری مینوئل جاری کیا ہے۔ ائربلو انتظامیہ نے بارڈر ہیلتھ سروسز اور وزارتِ صحت کی نئی ہدایات کے بعد باقاعدہ طور پر ائربلو حج عمرہ ویکسینیشن ایڈوائزری کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ امیگریشن کوریڈور کے تحت کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والے تمام مسافروں کے لیے نادرا کے مرکزی نظام سے منسلک ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جس کے بغیر بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔
اس اسمارٹ سفری فریم ورک کا بنیادی مقصد ایئرپورٹ ٹرمینلز پر ہونے والی مینوئل تاخیر، ہیلتھ ریکارڈز کے لوپ ہولز اور جعلی میڈیکل کارڈز کے روایتی کسٹمز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ ائربلو کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات ستمبر 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہیں، تاہم زائرین کی لاجسٹک آسانی اور پبلک انٹرسٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے حتمی دستاویزی تعمیل کے لیے 25 ستمبر 2026 تک کی عارضی مہلت فراہم کی ہے تاکہ کسٹمرز (زائرین) اپنے ڈیٹا لاگز کو نادرا پورٹل کے ساتھ کامیابی سے وائٹ لسٹ کروا سکیں۔
نادرا ڈیجیٹل انضمام اور چار بڑی لازمی ویکسینز کا اسمارٹ فریم ورک
ائربلو کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق اب پرانے اور مینوئل طریقے سے بنے ہوئے کاغذی ویکسینیشن کارڈز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا ہے۔ تمام مسافروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ نادرا کے ای-سہولت پلیٹ فارم یا مخصوص سرکاری مراکز سے تصدیق شدہ کیو آر کوڈ والا ڈیجیٹل کارڈ حاصل کریں۔
سعودی عرب اور حکومتِ پاکستان کے کونسل رولز کے تحت درج ذیل چار بڑی بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے اور ویکسینیشن کا لائیو ریکارڈ ڈیٹا بیس میں ہونا فرض ہے:
پولیو (Polio) اور گردن توڑ بخار (Meningitis): بین الاقوامی کسٹمز قوانین کے تحت پولیو اور میننجائٹس کی ویکسینیشن حاصل کرنا سب سے اولین ترجیح ہے۔
انفلوئنزا اور یلو فیور (Yellow Fever): موسمی فلو اور افریقی کوریڈورز سے رابطے کے پیشِ نظر یلو فیور کی حفاظتی خوراک حاصل کرنا اور اس کا سوفٹ ویئر ریکارڈ اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔
فیڈرل سول ڈسپنسری کا تعیّن اور ایئرپورٹ پر 6 گھنٹے پہلے آمد کا مینوئل
ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی اسمارٹ گائیڈ لائنز کے مطابق وفاقی حکومت کی فیڈرل گورنمنٹ سول ڈسپنسری کو بین الاقوامی مسافروں کے لیے واحد اور آفیشل ویکسینیشن مرکز قرار دیا گیا ہے جہاں بائیومیٹرک اسکیننگ کے ساتھ ڈیجیٹل کارڈ جنریٹ کیے جاتے ہیں۔ ایسے کسٹمرز جو کسی مینوئل تاخیر یا لاعلمی کی وجہ سے شہر سے اپنا نادرا سرٹیفکیٹ مینوفیکچر نہیں کروا سکے، ان کے لیے ائربلو نے کراچی ایئرپورٹ کے انٹرنیشنل ڈیپارچر ایریا میں لائیو رجسٹریشن کاؤنٹرز قائم کر دیے ہیں۔
تاہم، ایئرپورٹ پر ویکسین لگوانے والے مسافروں کے لیے ائربلو نے درج ذیل سخت لاجسٹک قوانین وضع کیے ہیں:
6 گھنٹے پہلے رپورٹنگ: ایئرپورٹ کاؤنٹر پر ڈیٹا پروسیسنگ اور کیو آر کوڈ کی آٹو جنریشن میں وقت لگتا ہے اس لیے مسافروں کو فلائٹ کے وقت سے کم از کم 6 گھنٹے پہلے ایئرپورٹ پہنچنا ہوگا۔
ای-سہولت فائنینشل پیمنٹ: ویکسینیشن فیس کی وصولی مکمل طور پر پیپر لیس ہوگی اور یہ ادائیگی نادرا ای-سہولت کے ڈیجیٹل کلاؤڈ والٹ کے ذریعے کیش لیس موڈ میں وصول کی جائے گی۔
ائربلو انتظامیہ نے اپنے تمام ٹریول مینیجرز اور ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹکٹ بکنگ کے وقت ہی گاہکوں کو اس ڈیجیٹل ہیلتھ پروٹوکول سے آگاہ کریں تاکہ فلائٹ کے وقت بورڈنگ بلاک ہونے جیسے سنگین معاشی اور ذہنی نقصان سے بچا جا سکے۔






