عالمی سطح پر امیگریشن اور ہجرت کی پالیسیوں میں سخت ترامیم کا سلسلہ جاری ہے جس کی تازہ ترین کڑی کے طور پر آسٹریلیا نے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی حکومت نے تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد پر قابو پانے اور نیٹ اوورسیز مائیگریشن (NOM) کو کم کرنے کے لیے 24 ممالک سے آنے والے نوجوانوں کے لیے مقبول ترین عارضی لیبر پروگرام کی درخواستیں وصول کرنا عارضی طور پر روک دیا ہے۔
محکمہ ہوم افیئرز کی جانب سے اٹھائے گئے اس اچانک قدم نے بین الاقوامی مائیگریشن ایجنٹس اور آسٹریلیا کے اندر افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنے والی مقامی صنعتوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ورک اینڈ ہالیڈے ویزا (Subclass 462) پر لاگو کیا گیا ہے جو کہ دنیا بھر کے نوجوانوں کو آسٹریلیا میں دورانِ سفر عارضی ملازمتیں کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ویزا پروگرام کی بندش کا شکار ہونے والے 24 ممالک کی تفصیلی فہرست
آسٹریلین حکومت نے اپنے ہوم افیئرز پورٹل پر بغیر کسی باقاعدہ پریس ریلیز یا پیشگی نوٹس کے اس معطلی کا نفاذ کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وفاقی وزیر برائے ہوم افیئرز ٹونی برک نے تصدیق کی ہے کہ ان مخصوص ممالک کے لیے درخواستوں کو فی الوقت روک دیا گیا ہے جبکہ بغیر کیپ والے ممالک کے ویزوں کی اسکریننگ اور پراسیسنگ کا عمل بھی ماضی کے مقابلے میں کافی سست کر دیا گیا ہے,
اس نئی پابندی اور معطلی کا شکار ہونے والے 24 اہم ممالک درج ذیل ہیں:
ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ: ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، منگولیا اور اسرائیل۔
یورپ: آسٹریا، چیک جمہوریہ، یونان، ہنگری، لکسمبرگ، پولینڈ، پرتگال، سلوواک جمہوریہ، سلووینیا اور اسپین۔
جنوبی اور وسطی امریکہ: ارجنٹائن، برازیل، چلی، ایکواڈور اور یوراگوئے۔
دیگر خطے: پیرو، سوئٹزرلینڈ اور پاپوا نیو گنی۔
انتظامیہ کے مطابق اس کیپڈ (محدود کوٹے والے) پروگرام میں شامل صرف ترکیہ اور سان مارینو جیسے ممالک کے لیے اب بھی درخواستیں اوپن ہیں کیونکہ ان کا سالانہ کوٹہ محض 100 نشستوں پر مشتمل ہے۔
آسٹریلیا عارضی ورک ویزا معطلی: اس فیصلے کے پیچھے پوشیدہ وجوہات
سڈنی اور کینبرا کے سیاسی حلقوں میں مہاجرت کی شرح پر جاری بحث اس وقت عروج پر ہے۔ آسٹریلین محکمہ داخلہ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اس بڑی معطلی کے پیچھے درج ذیل تین بنیادی تزویراتی وجوہات بیان کی ہیں:
سالانہ کوٹہ کا مکمل ہونا: ان 24 ممالک کے لیے سالانہ ویزا الاٹمنٹ کی حد مقررہ ہدف کے انتہائی قریب پہنچ چکی تھی جس کی وجہ سے فلو کو روکنا ناگزیر تھا۔
امیگریشن نظام کا توازن: پورے پروگرام کے سال کے دوران درخواستوں کے بوجھ کو برابر تقسیم کرنا اور مینوئل یا ڈیجیٹل اسکریننگ سافٹ ویئر پر سے دباؤ کم کرنا۔
حکومتی مائیگریشن پالیسی کی حمایت: البانیز حکومت کے وسیع تر وژن کی تائید کرنا جس کا مقصد آسٹریلیا کے اندر رہائشی بحران اور مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے عارضی رہائشیوں کی آمد کو محدود کرنا ہے۔
آسٹریلیا کی مقامی صنعتوں اور بیک پیکرز پر اس کے اثرات
آسٹریلیا میں یہ عارضی لیبر ویزا بالخصوص علاقائی سیاحت ، مہمان نوازی اور زراعت کے شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے کیونکہ غیر ملکی نوجوان پھلوں کی چنائی اور ہوٹلوں میں کام کر کے افرادی قوت کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔
سیاحتی تنظیموں اور مائیگریشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اچانک پازکی وجہ سے مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں حکومت نے حال ہی میں اس ویزا کی کسٹمز اور انتظامی فیسوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ پروگرام اب دنیا کا مہنگا ترین عارضی ورک ویزا بن چکا ہے۔ دوسری طرف، برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور جرمنی جیسے 19 ممالک کے لیے اوپن اسکیم کے تحت درخواستیں تاحال کھلی ہیں۔






