پنجاب حکومت نے حال ہی میں صوبے بھر کے ای خدمت مراکز کے ذریعے 16 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ سروس کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس قانون کے تحت اب کم عمر نوجوان قانونی طور پر 125cc تک کی موٹر سائیکل یا اسکوٹر چلا سکیں گے۔ بظاہر یہ اقدام انتظامی سطح پر ایک بہت بڑی سہولت نظر آتا ہے لیکن اس نے پاکستانی معاشرے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک سیکیورٹی کے ماہرین کے درمیان ایک نئی اور سنجیدہ بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فیصلہ سڑکوں پر موجود ایک دیرینہ بحران کو قانونی شکل دینے کی ایک کوشش ہے یا یہ ڈیجیٹل دور کی اسمارٹ گورننس کا ایک بہترین نمونہ ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم اس پالیسی کے تمام سماجی، قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
ایک تلخ معاشرتی حقیقت کا اعتراف
پاکستان کے کسی بھی شہر، چاہے وہ لاہور ہو، ملتان یا کوئی چھوٹا قصبہ، سڑکوں پر نکلیں تو آپ کو اسکول اور کالج جانے والے ایسے ہزاروں طالب علم نظر آئیں گے جن کی عمریں 18 سال سے کم ہوتی ہیں لیکن وہ بے خوفی سے موٹر سائیکل دوڑا رہے ہوتے ہیں۔ ماضی میں موٹر ویز آرڈیننس 1965 کے تحت یہ سراسر ایک غیر قانونی عمل تھا جس پر والدین کو جرمانے اور بچوں کو حوالات کی ہوا بھی کھانی پڑتی تھی۔
حکومتِ پنجاب کا یہ نیا فیصلہ دراصل ایک ایسی تلخ معاشرتی حقیقت کا اعتراف ہے جسے اب مزید چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام اور مہنگائی کے اس دور میں والدین کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو اسکول یا کالج چھوڑنے جائیں اور پھر واپس لائیں۔ موٹر سائیکل یا الیکٹرک اسکوٹر اب عیاشی نہیں بلکہ ایک اوسط طبقے کے طالب علم کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ حکومت نے یہ بھانپ لیا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ کو سختی یا جیل کے ذریعے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہے اس لیے اسے ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک کے تحت لانا ہی واحد عملی حل تھا۔
اسمارٹ گورننس اور ریگولیشن کا مثبت پہلو
اگر اس فیصلے کو مثبت نظر سے دیکھا جائے تو یہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) اور ٹریفک پولیس کی اسمارٹ گورننس کا ایک عمدہ مظاہرہ ہے۔
ڈیجیٹل رجسٹریشن: ای خدمت مراکز پر ون ونڈو آپریشن کے ذریعے کم عمر ڈرائیورز کا پورا بائیو میٹرک ڈیٹا اور ان کے والدین کا ریکارڈ حکومتی ڈیٹا بیس کا حصہ بن رہا ہے۔
قانونی جوابدہی: پہلے جب کوئی کم عمر بچہ سڑک پر حادثہ کرتا تھا تو وہ خوف کی وجہ سے بھاگ جاتا تھا یا اس کی شناخت ممکن نہیں ہوتی تھی۔ اب جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ کی وجہ سے ہر بچہ قانون کے دائرے میں ہوگا اور حادثے کی صورت میں اس کے سرپرست کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے گا۔
ٹریفک شعور: اس پرمٹ کے لیے امیدواروں کو کمپیوٹرائزڈ سائن ٹیسٹ اور عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سڑک پر آنے والا نوجوان ٹریفک قوانین، اشاروں اور حفاظتی تدابیر (جیسے ہیلمٹ کا لازمی استعمال) سے واقف ہو کر نکلے گا جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
کیا ہم ایک بڑے سڑک حادثات کے بحران کو دعوت دے رہے ہیں؟
پالیسی کے روشن پہلو اپنی جگہ لیکن اس فیصلے کا ایک انتہائی خطرناک رخ بھی ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ ماہرینِ نفسیات اور روڈ سیفٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 16 سے 18 سال کی عمر انسانی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جہاں خون گرم ہوتا ہے اور جذبات عقل پر حاوی ہوتے ہیں۔ اس عمر کے لڑکوں میں ون وہیلنگ ، تیز رفتاری اور سڑکوں پر کرتب دکھانے کا رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
قانونی طور پر پرمٹ جاری کر دینے سے کیا ان نوجوانوں کی ذہنی پختگی راتوں رات تبدیل ہو جائے گی؟ قطعاً نہیں۔ پاکستان میں سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی انتہائی ابتر ہے ٹریفک کا بہاؤ بے ہنگم ہے اور ہیوی ٹریفک (بیس، ٹرک) کے ڈرائیورز قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں 16 سال کے بچے کو قانونی طور پر سڑک پر آنے کی اجازت دینا اسے موت کے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ان بچوں نے تیز رفتاری یا ون وہیلنگ کے دوران اپنی یا دوسروں کی جانیں لیں،تو کیا حکومت اس جانی نقصان کی ذمہ داری قبول کرے گی؟
نفاذِ قانون کا فقدان: سب سے بڑی کمزوری
کسی بھی قانون کی کامیابی کا دارومدار اس کے سخت نفاذ پر ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت نے کاغذ پر تو لکھ دیا کہ یہ پرمٹ صرف 125cc تک کی بائیک کے لیے کارآمد ہے اور کار چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ٹریفک پولیس کے پاس اتنے وسائل اور افرادی قوت موجود ہے جو سڑک پر چلنے والے ہر نوجوان کو روک کر یہ چیک کرے کہ اس کے پاس پرمٹ ہے یا نہیں؟ یا وہ کار چلا رہا ہے یا بائیک؟
ہمارے نظام میں یہ عام دیکھا گیا ہے کہ قوانین تو بہت اچھے بنا دیے جاتے ہیں لیکن سڑک پر آ کر وہ صرف رشوت ستانی یا ٹریفک وارڈنز کے لیے دیہاڑی لگانے کا ایک نیا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اگر پولیس نے پرمٹ کی آڑ میں صرف چالان بک بھرنے پر توجہ دی اور قوانین کی اصل روح (جیسے اوور اسپیڈنگ کو روکنا) پر عمل نہ کروایا تو یہ اسمارٹ گورننس کا خواب ایک بھیانک انتظامی کابوس بن جائے گا۔
والدین کی ذمہ داری اور حلف نامے کی حقیقت
اس نئے نظام کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ درخواست جمع کراتے وقت والدین کا تحریری حلف نامہ اور ان کی موجودگی لازمی ہے۔ حکومت نے سمارٹ چال چلتے ہوئے گیند والدین کے کورٹ میں ڈال دی ہے کہ اگر بچے سے کوئی حادثہ سرزد ہوا، تو قانون والدین کا گریبان پکڑے گا۔
یہاں والدین کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ اکثر والدین اپنے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں بائیک تھما کر فخر محسوس کرتے ہیں اور اسے مردانگی کی علامت سمجھتے ہیں۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری پرمٹ مل جانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان کا بچہ سڑک کے تمام خطرات سے نمٹنے کے قابل ہو گیا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ پرمٹ دلوانے کے بعد بھی اپنے بچوں کی مانیٹرنگ کریں انہیں رات کے وقت اکیلے بائیک لے جانے سے روکیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر ہیلمٹ کے بغیر گھر سے نہ نکلیں۔
نتیجہ: توازن اور سخت نگرانی کی ضرورت
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پنجاب حکومت کا یہ اقدام نہ تو مکمل طور پر کوئی جادوئی حل ہے اور نہ ہی اسے یکسر مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنایا گیا ہے۔ اگر حکومت صرف پرمٹ بانٹنے تک محدود رہی اور سڑکوں پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام سخت نہ کیا، تو یہ ایک بڑے انسانی بحران (روڈ حادثات میں اضافے) کو قانونی تحفظ دینے کے مترادف ہوگا۔
اس پالیسی کو حقیقی معنوں میں اسمارٹ گورننس بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹریفک پولیس اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ مل کر آگاہی مہم چلائے، اسپیڈ لمٹس پر سختی سے عمل کروائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کم عمر ڈرائیورز کا پرمٹ فوری طور پر منسوخ کرنے کا نظام وضع کرے۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنے نوجوانوں کو ایک ذمہ دار شہری بنا سکتے ہیں اور اپنی سڑکوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔






