خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے ہونہار اور مالی طور پر پسماندہ طلبہ کے لیے احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس اسکیم کو بند کیے جانے کے بعد اب خیبر پختونخوا حکومت اس تاریخی پروگرام کو صوبے کے اپنے فنڈز اور معاشی وسائل سے جاری رکھے گی۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشی تنگی کی وجہ سے صوبے کا کوئی بھی ذہین طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔
اس اہم ترین تعلیمی پراجیکٹ کے دوبارہ آغاز سے یونیورسٹی سطح پر زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے ٹیوشن فیس اور ماہانہ اخراجات کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔
صوبائی وسائل سے بحالی اور یونیورسٹیوں کے بجٹ میں اضافہ
وزیرِ اعلیٰ کے پی کے مطابق، نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور ان پر سرمایہ کاری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی کے ساتھ ساتھ حکومت نے ہائر ایجوکیشن سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے مندرجہ ذیل بڑے اقدامات اٹھائے ہیں:
یونیورسٹی فنڈز میں ریکارڈ اضافہ: پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے سرکاری مالی امداد کو 10 ارب روپے سے بڑھا کر 12 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
مالی خسارے کا خاتمہ: سرکاری جامعات کا مجموعی مالیاتی خسارہ 9 ارب روپے سے کم کر کے 4.5 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
پینشن واجبات کی ادائیگی: سال 2017ء سے جون 2026ء تک کے تمام پینڈنگ پینشن واجبات کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے مالیاتی بحران سے نکل سکیں۔
احساس اسکالرشپ کے تحت ملنے والے مالی فوائد اور کوریج
اس پروگرام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور صوبائی محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اشتراک سے چلایا جائے گا۔ اسکالرشپ حاصل کرنے والے کامیاب طلبہ کو درج ذیل مالی سہولیات فراہم کی جائیں گی:
100 فیصد ٹیوشن فیس معاف: منتخب طلبہ کی یونیورسٹی کی تمام سمسٹر فیسز حکومتِ کے پی براہِ راست ادا کرے گی۔
ماہانہ گزارہ الائونس (Stipend): طلبہ کو کتابوں، ہاسٹل اور سفری اخراجات پورے کرنے کے لیے 4,000 روپے ماہانہ (یا سالانہ تقریباً 40,000 سے 50,000 روپے) کا وظیفہ دیا جائے گا۔
ڈگری کا تسلسل: یہ تعلیمی وظیفہ 4 سے 5 سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام (جیسے BS, BE, MBBS, Pharm-D) کے پورے دورانیے کے لیے برقرار رہے گا، بشرطیکہ طالب علم کی تعلیمی کارکردگی تسلی بخش رہے۔
اسکالرشپ کے لیے اہلیت کا معیار اور کوٹہ سسٹم
خیبر پختونخوا حکومت نے اس میرٹ اور نیڈ بیسڈ اسکالرشپ کے لیے شفاف ترین طریقہ کار وضع کیا ہے۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے:
آمدنی کی حد: درخواست گزار کے خاندان کی مجموعی ماہانہ آمدنی 45,000 روپے یا اس سے کم ہونی چاہیے۔
تعلیمی ریکارڈ: طالب علم نے اپنے حالیہ انٹرمیڈیٹ یا سمسٹر امتحان میں کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔
خواتین اور معذور طلبہ کا کوٹہ: خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے 50 فیصد کوٹہ طالبات کے لیے مخصوص ہے جبکہ 2 فیصد کوٹہ معذور (Physically Challenged) طلبہ کے لیے رکھا گیا ہے۔
نااہلی کی شرائط: ایوننگ شفٹ، سیلف فنانس، یا ڈسٹنس لرننگ (فاصلاتی تعلیم) کے طلبہ اس اسکالرشپ کے اہل نہیں ہوں گے۔
بلا سود تعلیمی قرضے اور نئی انٹرنشپ پالیسی کا آغاز
وزیرِ اعلیٰ نے پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن میں یہ بھی واضح کیا کہ احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی کے علاوہ حکومتِ کے پی بہت جلد ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے بلا سود تعلیمی قرضے بھی شروع کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نئے گریجویٹس کو عملی تجربہ فراہم کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ایک جامع صوبائی انٹرنشپ پالیسی کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے جسے جلد ہی لانچ کیا جائے گا۔
مستحق طلبہ اس پروگرام کی آن لائن رجسٹریشن اور یونیورسٹیوں کی لسٹ دیکھنے کے لیے کے پی اسکالرشپ پورٹل وزٹ کر سکتے ہیں۔






