فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ذیلی ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیو ایشن کراچی نے ایک اہم ترین پیش رفت میں 70 مختلف اقسام کی امپورٹڈ موبائل فون ایکسیسریز کی کسٹمز ویلیو ایشن (درآمدی قیمتوں) کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ کسٹمز حکام کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر Valuation Ruling No. 2105/2026 جاری کر دی گئی ہے۔ اس نئے فیصلے کے بعد پاکستان میں قانونی طور پر درآمد ہونے والی تمام بڑی اور چھوٹی موبائل فون ایکسیسریز پر عائد ہونے والے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کا پورا ڈھانچہ تبدیل ہو جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام انڈر انوائسنگ کو روکنے اور بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں کے مطابق ٹیکس وصولی کو شفاف بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
موبائل فون ایکسیسریز کی امپورٹ ویلیو میں تبدیلی کیوں کی گئی؟
پاکستان میں اس سے قبل موبائل فون ایکسیسریز کی درآمدی قیمتوں کا تعین کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 25A کے تحت پرانی رولنگ (Valuation Ruling No. 1887-1-2024) کے مطابق کیا جا رہا تھا۔ چونکہ پرانی کسٹمز رولنگ دو سال سے زائد پرانی ہو چکی تھی اور اس دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی تھیں اس لیے کسٹمز قوانین کے مطابق نئی رولنگ کا جاری ہونا ناگزیر تھا۔
ایف بی آر کے مطابق پرانے ریٹس کی وجہ سے امپورٹرز کی جانب سے بڑے پیمانے پر انڈر انوائسنگ کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ نئے فریم ورک کو حتمی شکل دینے سے پہلے کسٹمز ڈائریکٹوریٹ نے تمام اسٹیک ہولڈرز اور امپورٹرز کے ساتھ تفصیلی اجلاس بھی منعقد کیے تاکہ مارکیٹ کے اصل حقائق کے مطابق موبائل فون ایکسیسریز کی امپورٹ ویلیو کا درست تعین کیا جا سکے۔
کن 70 اشیاء کی کسٹمز ویلیو تبدیل کی گئی ہے؟
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں تقریباً تمام اہم اسمارٹ فون اسیسریز کو شامل کیا گیا ہے۔ ان 70 کیٹیگریز میں درج ذیل مصنوعات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں:
موبائل چارجرز اور اڈاپٹرز: عام اور فاسٹ چارجنگ والے چارجرز کی کسٹمز ویلیو کو ان کے برانڈ اور واٹ (Watt) کے حساب سے اپڈیٹ کیا گیا ہے۔
یو ایس بی اور ڈیٹا کیبلز: ٹائپ-سی، مائیکرو یو ایس بی اور آئی فون کی لائٹننگ کیبلز کی نئی امپورٹ ویلیوز مقرر کی گئی ہیں۔
پاور بینک اور وائرلیس چارجرز: مختلف ایم اے ایچ (mAh) کی صلاحیت رکھنے والے پاور بینکس پر اب نئی قیمتوں کے مطابق ٹیکس لگے گا۔
ہینڈز فری اور ایئر بڈز: وائرڈ ہینڈز فری سے لے کر جدید ترین بلوٹوتھ ایئر بڈز کی الگ الگ کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔
موبائل اسکرین پروٹیکٹرز اور کورز: ٹیمپرڈ گلاس، گوریلا گلاس اور مختلف ڈیزائنز کے پریمیم موبائل کورز کی امپورٹ ویلیو کو ریوائز کیا گیا ہے۔
مارکیٹ اور صارفین پر اس فیصلے کے ممکنہ اثرات
ایف بی آر کی جانب سے موبائل فون ایکسیسریز کی امپورٹ ویلیو میں اس حالیہ ردوبدل کے بعد مقامی مارکیٹ میں موبائل فون کے پارٹس اور دیگر اسیسریز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی کی شرح امریکی ڈالرز میں متعین کی جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر امپورٹ لاگت پر پڑتا ہے۔
قیمتوں میں ممکنہ اضافہ: جن اشیاء کی کسٹمز ویلیو ایشن بڑھائی گئی ہے ان کی کسٹمز ڈیوٹی بڑھ جائے گی، جس کے نتیجے میں دکانوں پر عام صارفین کے لیے چارجرز، کیبلز اور کورز مہنگے ہو سکتے ہیں۔
اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی: درست اور شفاف امپورٹ ویلیو مقرر ہونے سے قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والے امپورٹرز کو تحفظ ملے گا اور ڈیوٹی چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
لوکل مینوفیکچرنگ کو فروغ: حکومت کی جانب سے امپورٹڈ الیکٹرانکس پر ٹیکس نیٹ سخت کرنے کا ایک بڑا مقصد مقامی سطح پر موبائل اسیسریز تیار کرنے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔
مجموعی طور پر یہ نئی کسٹمز رولنگ پاکستان بھر کے تمام ماڈل کسٹمز کلکٹوریٹس (MCCs) میں فوری طور پر نافذ العمل کر دی گئی ہے اور اب تمام امپورٹڈ کنسائنمنٹس کی کلیئرنس اسی نئے قانون کے تحت کی جائے گی۔






