صوبہ سندھ بالخصوص صوبائی دارالحکومت کراچی میں مون سون کی حالیہ طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر حکومتِ سندھ نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارشوں کے دوران شہریوں کی فوری مدد اور شکایات کے ازالے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایک خصوصی سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک قائم کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اربن فلڈنگ اور کسی بھی ناگہانی صورتحال کے دوران عوام تک بلا تاخیر امداد پہنچانا ہے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق اس ہنگامی سیل کا کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال رہے گا تاکہ صوبے بھر خصوصاً کراچی کے نشیبی علاقوں سے آنے والی شکایات پر فوری ایکشن لیا جا سکے۔
رین ایمرجنسی ہیلپ لائن اور ٹول فری نمبرز
حکومتِ سندھ نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک مرکزی ٹول فری نمبر اور متعدد پبلک کمپلینٹ سیل نمبرز جاری کیے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال کرنٹ لگنے کے حادثات یا سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی صورت میں شہری درج ذیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں:
ٹول فری ہیلپ لائن نمبر: 0800-91915 (اس نمبر پر کال کرنے کے کوئی چارجز نہیں ہیں)
پبلک کمپلینٹ سیل نمبرز:
021-99202047
021-99207349
021-99207568
سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک پر تعینات عملہ تین شفٹوں میں چوبیس گھنٹے (24/7) ڈیوٹی پر مامور رہے گا اور موصول ہونے والی تمام شکایات کو فوری طور پر متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو فارورڈ کرے گا۔
Sindh Chief Minister Murad Ali Shah has set up a rain emergency desk at the Chief Minister's House in Karachi.@SindhCMHouse @sindhinfodepart #News #RadioPakistan https://t.co/TrFf4lS539
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 25, 2026
بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز (DCs)، لوکل گورنمنٹ باڈیز اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ:
شہر کے تمام بڑے نالوں اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی کو چوبیس گھنٹے مانیٹر کیا جائے۔
نشیبی علاقوں اور انڈر پاسز سے پانی نکالنے کے لیے ہیوی ڈی واٹرنگ پمپس کو تیار حالت میں رکھا جائے۔
کے الیکٹرک (K-Electric) اور دیگر بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مضبوط کیا جائے تاکہ بارش کے دوران کسی بھی جانی نقصان (کرنٹ لگنے) سے بچا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور وہ خود شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے رین ایمرجنسی پلان کا جائزہ لیں گے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مون سون کی ان بارشوں کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں۔ خاص طور پر بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے محفوظ رہا جا سکے۔






