خیبر پختونخوا (KP) کے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے صحت کے شعبے سے ایک انتہائی خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ حکومتِ خیبر پختونخوا نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بچوں میں ٹائپ 1 ذیابیطس (Type 1 Diabetes) کے علاج کے لیے ایک جامع پبلک سیکٹر منصوبہ شروع کیا ہے جسے خیبرپختونخوا فری انسولین پروگرام یا جوینائل ذیابیطس کنٹرول پروگرام (Juvenile Diabetes Control Program) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تین سالہ پروگرام کے تحت صوبے بھر کے متاثرہ بچوں کو نہ صرف مفت انسولین فراہم کی جائے گی بلکہ انہیں جدید طبی نگہداشت، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل فالو اپ اور ماہر ڈاکٹرز کی خدمات بھی بالکل مفت میسر ہوں گی۔ اگر آپ کے خاندان یا جاننے والوں میں کوئی بچہ اس بیماری کا شکار ہے تو یہ تفصیلی آرٹیکل آپ کو اس سرکاری اسکیم سے مکمل فائدہ اٹھانے کا طریقہ سکھائے گا۔
جوینائل ذیابیطس کنٹرول پروگرام کے اہم اہداف اور خصوصیات
محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اس پروگرام کو پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی (Pakistan Endocrine Society) اور نجی شعبے کے تعاون سے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کا مقصد صرف دوا دینا نہیں بلکہ علاج کا ایک مکمل اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔
بڑے پیمانے پر اسکریننگ: اس پروگرام کے تحت صوبے بھر کے 5 لاکھ اسکولی بچوں اور ہسپتالوں کا دورہ کرنے والے 2 لاکھ عام شہریوں کی ذیابیطس کے لیے مفت اسکریننگ کی جائے گی۔
بچوں کی رجسٹریشن کا ہدف: حکومت کا ابتدائی ہدف ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا تقریباً 2,265 بچوں کو رجسٹرڈ کر کے انہیں لائف لائن فراہم کرنا ہے۔
پیشہ ورانہ تربیت: ذیابیطس کی بروقت تشخیص کے لیے صوبے کے 140 ڈاکٹروں اور 560 پیرامیڈیکل اسٹاف کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔
انسولین بینکوں کا قیام: صوبے کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص انسولین بینک قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ ادویات کی فراہمی میں کبھی تعطل نہ آئے۔
اسمائل (SMILE) ڈیجیٹل کیئر ماڈل کیا ہے؟
اس پروگرام کی سب سے بڑی خاصیت اس کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہے جسے ممتاز ماہرِ امراضِ غدود (Endocrinologist) ڈاکٹر سید عباس رضا نے SMILE (Simplifying the Life of Type 1 Diabetic Kids) پروجیکٹ کے تحت تیار کیا ہے۔
اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مریض بچوں کا الیکٹرانک ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریض بھی انٹرنیٹ اور ٹیلی میڈیسن (Telemedicine) کے ذریعے پشاور یا دیگر بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹرز سے آن لائن معائنہ کروا سکیں گے۔ ڈیجیٹل رجسٹری کی مدد سے حکومت کو انسولین کی خریداری اور سپلائی چین کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی تاکہ ہسپتالوں میں اسٹاک کبھی ختم نہ ہو۔
علاج کا طریقہ کار اور عمر کی حد
پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ابرار احمد کے مطابق بچوں کی عمر کے لحاظ سے ان کے علاج کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ انہیں بہترین کیئر مل سکے:
15 سال سے کم عمر بچے: پندرہ سال تک کے بچوں کا علاج بچوں کے ماہرینِ امراضِ غدود (Pediatric Endocrinologists) کی زیرِ نگرانی ہوگا۔
15 سے 25 سال کے نوجوان: جب بچہ 15 سال سے بڑا ہو جائے گا تو اسے ایک باقاعدہ طریقہ کار کے تحت بڑوں کے ماہر ڈاکٹرز (Adult Endocrinologists) کے پاس منتقل کر دیا جائے گا۔
علاج کے اس سفر میں بچوں کو گلوکومیٹر (Glucometer)، شوگر ٹیسٹ کرنے والی پٹیاں (Test Strips) اور جدید ترین کنٹی نیوس گلوکوز مانیٹرنگ (CGM) ڈیوائسز بھی مستحق ہونے کی صورت میں مفت فراہم کی جائیں گی۔
خیبر پختونخوا فری انسولین پروگرام میں شامل ہونے کا طریقہ
اگر آپ اپنے بچے کو اس پروگرام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو درج ذیل مراحل پر عمل کریں:
1۔ قریبی سرکاری ہسپتال یا ڈی ایچ کیو کا دورہ کریں
صوبہ خیبر پختونخوا کے کسی بھی قریبی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال یا تدریسی ہسپتال (Teaching Hospital) کے شعبہ اطفال (Pediatrics) یا اینڈوکرائنالوجی او پی ڈی سے رجوع کریں۔
2۔ اسکریننگ اور تشخیص کا ٹیسٹ
ہسپتال میں موجود تربیت یافتہ ڈاکٹرز بچے کے خون کے ضروری ٹیسٹ کریں گے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس کی تصدیق ہونے پر بچے کا نام سرکاری ڈیجیٹل رجسٹری میں درج کر لیا جائے گا۔
3۔ انسولین کارڈ کا حصول اور مفت ہوم کیئر گائیڈنس
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد والدین کو ایک مخصوص ہیلتھ کارڈ یا فائل جاری کی جائے گی جس کی مدد سے وہ انسولین بینک سے ہر ماہ مفت انسولین حاصل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بچے کی غذائی کونسلنگ اور شوگر مانیٹر کرنے کی مفت تربیت بھی دی جائے گی۔






