حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن اور مقامی ضلعی انتظامیہ کے احکامات کے مطابق 11 جولائی کو پورے صوبہ پنجاب میں تو نہیں لیکن ایک مخصوص ضلع میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا آپ کے علاقے میں اسکول، کالجز اور دفاتر بند ہوں گے یا نہیں تو یہ تفصیلی مضمون آپ کے لیے ہے۔ پنجاب کے ضلع وہاڑی (Vehari) میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 11 جولائی کو مقامی طور پر عام چھٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ یہ چھٹی ضلع وہاڑی کی حدود میں آنے والے تمام سرکاری و نجی اداروں پر لاگو ہوگی۔
11 جولائی کو چھٹی کی اصل وجہ کیا ہے؟
پنجاب کے ضلع وہاڑی میں 11 جولائی کو ہونے والی اس چھٹی کی وجہ انتہائی اہم ثقافتی اور مذہبی تقریب ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مشہور و معروف صوفی بزرگ حضرت بابا حاجی شیر دیوان (رح) کا سالانہ عرس مبارک انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر وہاڑی کے مطابق عرس کی تین روزہ تقاریب کا آغاز 9 جولائی سے ہوتا ہے اور 11 جولائی کو اس عرس کا آخری اور سب سے اہم دن ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے زائرین اور مقامی شہریوں کی سہولت، سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور عرس کی تقاریب میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے فائنل والے دن ضلع بھر میں عام تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کون سے ادارے بند رہیں گے اور کہاں کام جاری رہے گا؟
ضلع وہاڑی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس پنجاب میں مقامی تعطیل کے دوران مندرجہ ذیل انتظامات لاگو ہوں گے:
سرکاری و نجی اسکول اور کالجز: ضلع وہاڑی کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اس دن مکمل طور پر بند رہیں گے۔
سرکاری دفاتر اور کارپوریشنز: ضلعی حکومت کے ماتحت تمام دفاتر، لوکل کونسلز اور نیم سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
امتحانات کا شیڈول: تعلیمی بورڈز یا یونیورسٹیوں کے تحت پہلے سے طے شدہ امتحانات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور ان پر چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
لازمی سروسز (Essential Services): ہسپتال، ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے ادارے الرٹ رہیں گے اور عوام کی سیکیورٹی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
کیا پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی 11 جولائی کو چھٹی ہوگی؟
یہ بات واضح رہے کہ یہ ایک ضلعی یا مقامی چھٹی (Local Holiday) ہے، نہ کہ صوبائی سطح کی۔ اس لیے لاہور، ملتان، فیصل آباد، اور راولپنڈی سمیت پنجاب کے دیگر تمام اضلاع میں 11 جولائی کو کوئی عام چھٹی نہیں ہوگی اور وہاں تمام کاروباری، تعلیمی اور سرکاری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ دیگر اضلاع کے شہریوں کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے صرف اپنے مقامی ڈپٹی کمشنر کے دفتر یا حکومت پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کے آفیشل نوٹیفکیشن پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔






