پاکستان میں موٹر سائیکل عام آدمی کی سواری ہے لیکن پچھلے چند برسوں میں بائیکس کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ایکسائز ٹیکسز اور رجسٹریشن کے اخراجات میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جب آپ ہونڈا (Honda)، یاماها (Yamaha) یا سوزوکی (Suzuki) کی کوئی نئی بائیک خریدتے ہیں تو شو روم پر دی جانے والی رقم کے علاوہ آپ کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو رجسٹریشن فیس، اسمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹ کے چارجز بھی ادا کرنے ہوتے ہیں۔
سال 2026 کے نئے بجٹ اور صوبائی پالیسیوں کے تحت، پنجاب اور سندھ میں بائیک رجسٹریشن فیس 2026 کے ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے اس مضمون میں ہم آپ کو دونوں صوبوں کے رجسٹریشن قوانین، لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس اور ٹاپ بائیکس کی مکمل آن روڈ قیمت کا تفصیلی موازنہ فراہم کریں گے۔
پنجاب میں بائیک رجسٹریشن فیس کا نیا شیڈول
حکومتِ پنجاب نے صوبے میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے نظام کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے حال ہی میں حکومت کی جانب سے بائیک مالکان کے لیے کچھ ریلیف پیکجز اور فیسوں میں ایڈجسٹمنٹ بھی کی گئی ہیں۔ پنجاب میں موٹر سائیکل کی رجسٹریشن فیس بنیادی طور پر انجن کی طاقت (CC) پر منحصر ہوتی ہے:
70cc تک (مثلاً Honda CD 70): رجسٹریشن فیس تقریباً 1,000 روپے ہے۔ اسمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹ کے چارجز ملا کر کل لاگت تقریباً 3,000 سے 4,800 روپے تک بنتی ہے۔
71cc سے 100cc تک (مثلاً Honda Pridor): بنیادی رجسٹریشن فیس 1,500 روپے ہے۔
101cc سے 125cc تک (مثلاً Honda CG 125 / Yamaha YBR 125): رجسٹریشن فیس 2,000 روپے مقرر ہے۔
126cc سے 150cc تک (مثلاً Suzuki GS 150 / GR 150): بنیادی رجسٹریشن فیس 2,500 روپے ہے۔
150cc سے اوپر کی بائیکس: گاڑی کی انوائس ویلیو (خریداری کی قیمت) کا 2 فیصد رجسٹریشن فیس کی مد میں چارج کیا جاتا ہے۔,
پنجاب حکومت نے الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کو فروغ دینے کے لیے ان کی رجسٹریشن فیس پر 95 فیصد رعایت کا اعلان کر رکھا ہے یعنی الیکٹرک ٹو-وہیلرز کو صرف 5 فیصد فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔
سندھ میں بائیک رجسٹریشن فیس اور لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ کا فیس اسٹرکچر پنجاب سے تھوڑا مختلف ہے کیونکہ یہاں فیس کا تعین انوائس پرائس (Invoice Price) کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔
بنیادی رجسٹریشن ٹیکس: سندھ میں نئی موٹر سائیکل کی رجسٹریشن فیس موٹر سائیکل کی اصل انوائس قیمت کا 1 فیصد ہوتی ہے۔
لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس: موٹر سائیکلوں اور 1000cc تک کی گاڑیوں کے لیے سندھ میں لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس لازمی ہے جو موٹر سائیکل رجسٹریشن کے وقت ہی یکمشت وصول کیا جاتا ہے۔
اضافی چارجز: اسمارٹ کارڈ، نئی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ اور بائیومیٹرک تصدیق کے چارجز اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ سندھ میں اب کسی بھی نئی رجسٹریشن یا ٹرانسفر کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ جعلسازی کا خاتمہ ہو سکے۔
مقبول بائیکس کا آن روڈ لاگت بریک ڈاؤن
جب ہم شو روم پرائس میں ایکسائز ڈیوٹی، نمبر پلیٹ، اسمارٹ کارڈ اور فلیٹ چارجز شامل کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بائیک کی اصل آن روڈ (On-Road) قیمت آتی ہے۔ نیچے پاکستان کی مقبول ترین بائیکس کے رجسٹریشن اخراجات کا ایک موازنہ دیا گیا ہے:
| بائیک کا ماڈل اور برانڈ | انجن کی طاقت (CC) | پنجاب میں متوقع رجسٹریشن لاگت | سندھ میں متوقع رجسٹریشن لاگت (بشمول لائف ٹائم ٹیکس) |
| Honda CD 70 | 70 CC | 3,500 – 4,500 روپے | 5,500 – 7,000 روپے |
| Honda CG 125 | 125 CC | 4,800 – 6,000 روپے | 8,000 – 10,000 روپے |
| Yamaha YBR 125G | 125 CC | 5,500 – 6,500 روپے | 11,000 – 13,000 روپے |
| Suzuki GS 150 | 150 CC | 6,500 – 7,500 روپے | 12,000 – 14,000 روپے |
نئی بائیک رجسٹر کرواتے وقت کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟
چاہے آپ پنجاب کے MTMIS Punjab پورٹل کے ذریعے اپلائی کریں یا سندھ کے Excise Sindh دفتر جائیں، آپ کے پاس درج ذیل کاغذات کا ہونا لازمی ہے:
مینوفیکچرر کا سیلز سرٹیفکیٹ (Sales Certificate): جو بائیک بنانے والی کمپنی (ہونڈا، یاماها وغیرہ) جاری کرتی ہے۔
کمرشل انوائس (Commercial Invoice): شو روم سے ملنے والی اصل رسید۔
خریدار کے شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی: خریدار کا فائلر ہونا فیسوں میں مزید رعایت کا باعث بنتا ہے۔
بائیومیٹرک تصدیق: پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں اب بائیک کے مالک کی بائیومیٹرک حاضری یا ایپ کے ذریعے تصدیق کے بغیر نمبر پلیٹ جاری نہیں کی جاتی






