پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو مالی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے لیے سرمائے کا حصول انتہائی آسان بنانے کے لیے ایک انقلابی ڈیجیٹل فنانسنگ پروڈکٹ متعارف کروائی گئی ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے باقاعدہ طور پر اس نئے اور منفرد ڈیجیٹل اقدام کی منظوری دے دی ہے، جس کا نام "خود مختار خاتون پروگرام" رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کو "والی فنانشل سروسز” (Walee Financial Services) کے تعاون سے لانچ کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد خواتین کو دفاتر کے چکروں اور طویل کاغذی کارروائی سے نجات دلا کر براہِ راست ان کے اسمارٹ فونز کے ذریعے حلال اور بلاسود کاروباری سرمایہ فراہم کرنا ہے۔
خود مختار خاتون پروگرام کیا ہے اور اس کے اہم فوائد؟
ایس ای سی پی (SECP) کی جانب سے منظور شدہ یہ فنانسنگ پروڈکٹ ملک میں خواتین کی مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو فروغ دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے اہم ترین خدوخال درج ذیل ہیں:
100% ڈیجیٹل اور پیپر لیس: درخواست دینے سے لے کر منظوری تک کا سارا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے۔
شریعہ کمپلائنٹ (اسلامی طریقہ کار): یہ قرضہ سودی نظام سے پاک اور مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق ہے، جو اثاثہ فنانسنگ (Asset Financing) کے ماڈل پر کام کرتا ہے۔
قرض کی حد: خواتین اپنے کاروبار کی نوعیت کے حساب سے کم از کم 1 لاکھ روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ روپے (Rs. 1.5 Million) تک کی فنانسنگ حاصل کر سکتی ہیں۔
آسان واپسی: فنانسنگ کی رقم کو ایک سال (1 Year) کی مدت کے دوران برابر ماہانہ اقساط میں واپس کرنا ہو گا۔
قرضہ کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
خود مختار خاتون پروگرام روایتی نقد قرضوں کے بجائے "اثاثہ فنانسنگ” پر مرکوز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین یہ رقم اپنے موجودہ کاروبار کو بڑھانے یا نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے درج ذیل مقاصد کے لیے حاصل کر سکتی ہیں:
کاروباری مشینری (مثلاً سلائی کڑھائی کی مشینیں، پیکنگ ٹولز، یا بیوٹی پارلر کا سامان) کی خریداری۔
آئی ٹی اور ڈیجیٹل کاموں کے لیے لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز یا دیگر الیکٹرانک ایکوپمنٹ۔
کاروبار سے منسلک دیگر مادی اثاثے (Business-related Assets) جو پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکیں۔
حکیم (Hakeem) موبائل ایپ کے ذریعے اپلائی کرنے کا طریقہ
ایس ای سی پی کے مطابق، اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے خواتین کو کسی بینک برانچ جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اپنے موبائل فون پر دستیاب "Hakeem” نامی آفیشل موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپلائی کر سکتی ہیں۔ اپلائی کرنے کا مرحلہ وار طریقہ کار درج ذیل ہے:
ایپ ڈاؤن لوڈ اور رجسٹریشن
اپنے اسمارٹ فون کے گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے "Hakeem App" ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے موبائل نمبر اور شناختی کارڈ (CNIC) کے ذریعے اکاؤنٹ بنائیں۔
فنانسنگ آپشن کا انتخاب
ایپ کے مین مینو میں جائیں اور وہاں موجود "Khud Mukhtar Khatoon” یا "Islamic Asset Financing” کے آپشن پر کلک کریں۔
اثاثے اور رقم کی تفصیل درج کریں
آپ کو کاروبار کے لیے جس مشینری یا آلات کی ضرورت ہے اس کی تفصیلات اور مطلوبہ فنانسنگ کی رقم (1 لاکھ سے 15 لاکھ کے درمیان) منتخب کریں۔
دستاویزات اپ لوڈ کریں
اپنے شناختی کارڈ کی اسکین کاپی، کاروباری جگہ کا ثبوت یا تصویر اور بینک اسٹیٹمنٹ (اگر دستیاب ہو) ڈیجیٹل طور پر اپ لوڈ کریں۔
بائیومیٹرک تصدیق اور منظوری
درخواست جمع ہونے کے بعد والی فنانشل سروسز کا سسٹم آپ کے ڈیٹا کی ای ویریفیکیشن (e-Verification) کرے گا۔ منظوری کے بعد اثاثہ فنانسنگ کی رقم یا آرڈر براہِ راست جاری کر دیا جائے گا۔
پاکستان میں نان بینکنگ ڈیجیٹل فنانسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحانات
ایس ای سی پی کے حالیہ جاری کردہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نان بینکنگ فنانشل کمپنیوں (NBFCs) کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے درمیان ان کمپنیوں نے تقریباً 111 ارب روپے کے فنانسنگ فنڈز جاری کیے جس سے ملک بھر کے لگ بھگ 75 لاکھ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (MSMEs) کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔ خود مختار خاتون پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو خاص طور پر خواتین کو ہدف بنا کر انہیں مردوں کے برابر معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔






