پاکستان میں نئے وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد جہاں مختلف شعبوں پر نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں وہی معیشت کو دستاویزی بنانے اور مقامی صنعتوں (Local Manufacturing) کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے کچھ انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں مقامی طور پر اسمبل ہونی والی ہوم اپلائنسز اور الیکٹرانکس کی صنعت کو خام مال کی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے بعد مارکیٹ میں کچھ ہوم اپلائنسز اور سستی الیکٹرانکس اشیاء صارفین کے لیے بڑی خوشخبری بن کر سامنے آئی ہیں۔
اگر آپ اپنے گھر کے لیے الیکٹرانکس یا ہوم اپلائنسز خریدنے کا ارادہ رکھ رہے ہیں تو بجٹ کے بعد درج ذیل 3 بڑی کیٹیگریز کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے جس کا آپ کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انورٹر ائیر کنڈیشنر (Inverter ACs)
پاکستان میں گرمی کی شدید لہر (Heatwave) کے دوران ائیر کنڈیشنر اب عیاشی نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ نئے بجٹ میں حکومت نے پاکستان کے اندر اے سی بنانے والے پلانٹس کے لیے امپورٹڈ پرزہ جات پر ڈیوٹی کم کی ہے۔
قیمتوں میں کمی کی وجہ اور اثرات:
لوکل اسمبلنگ پر ریلیف: ہائیر (Haier)، ڈاؤلینس (Dawlance) اور پییل (PEL) جیسے برانڈز جو پاکستان میں ہی اے سی اسمبل کرتے ہیں، ان کی پیداواری لاگت کم ہوئی ہے۔
متوقع بچت: بجٹ سے پہلے جو 1.5 ٹن کا انورٹر اے سی تقریباً 1,300,000 سے 1,45,000 روپے کا تھا، اس کی قیمت میں 10,000 سے 15,000 روپے تک کی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف خریدنا سستا ہوا ہے بلکہ ان کی انرجی ایفیشنٹ ٹیکنالوجی اب عام صارفین کی پہنچ میں آ گئی ہے۔
ایل ای ڈی ٹیلی ویژن (LED TVs)
بجٹ میں سمارٹ ایل ای ڈی ٹی وی کی مقامی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے اوپن سیل (Open Cell) پینلز پر کسٹم ڈیوٹی کو یکسر کم کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں الیکٹرانکس اسمبلنگ کو ڈیجیٹلائز اور سستا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
قیمتوں میں کمی کی وجہ اور اثرات:
لوکل برانڈز کو فائدہ: چائنا اور دیگر ممالک سے بنے بنائے ایل ای ڈی ٹی وی منگوانے کے بجائے پاکستان میں اسمبل ہونے والے 32، 40 اور 55 انچ کے سمارٹ ٹی وی اب بہت سستے تیار ہو رہے ہیں۔
متوقع بچت: بجٹ کے نفاذ کے بعد عام گھریلو استعمال کے 40 انچ سمارٹ ایل ای ڈی ٹی وی کی قیمتوں میں 5,000 سے 8,000 روپے تک کی کمی دیکھی جا رہی ہے جس سے مڈل کلاس خاندانوں کے لیے ہوم انٹرٹینمنٹ سستی ہو گئی ہے۔
سولر انورٹرز اور بیٹریاں
بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان شہریوں کے لیے حکومت نے بجٹ میں سولر انرجی سیکٹر کو سب سے بڑا ریلیف دیا ہے۔ مقامی سطح پر سولر پینلز، انورٹرز اور لیتھیم آئن بیٹریوں کی تیاری کے لیے پلانٹس اور خام مال پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔
قیمتوں میں کمی کی وجہ اور اثرات:
کلین انرجی سستی: گرین انرجی کو فروغ دینے کے لیے اب امپورٹڈ سولر آلات کے مقابلے میں پاکستان میں بنے انورٹرز اور ہائبرڈ بیٹری سسٹمز انتہائی سستے ہو رہے ہیں۔
متوقع بچت: ایک معیاری 5 کلو واٹ (5kW) یا 10 کلو واٹ کے سولر سسٹم کے انورٹر اور بیٹری سیٹ اپ کی مجموعی قیمت میں 20,000 سے 40,000 روپے تک کا واضح فرق آیا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے سولر پر شفٹ ہونا اب مالی طور پر بہت آسان ہو گیا ہے۔
بجٹ کے بعد سستی ہونے والی اشیاء کا تقابلی جائزہ
صارفین کی رہنمائی کے لیے بجٹ سے پہلے اور بعد کی متوقع قیمتوں کا موازنہ نیچے جدول میں پیش کیا گیا ہے:
| الیکٹرانکس اشیاء | بجٹ سے پہلے کی قیمت (PKR) | بجٹ کے بعد نئی قیمت (PKR) | اندازاً قطعی بچت |
| 1.5 ٹن انورٹر اے سی (لوکل) | 140,000 | 128,000 | 12,000 روپے |
| 43 انچ اسمارٹ LED TV | 65,000 | 58,500 | 6,500 روپے |
| 5kW سولر ہائبرڈ انورٹر | 120,000 | 102,000 | 18,000 روپے |
| ڈیپ فریزر / فریج (لوکل) | 95,000 | 89,000 | 6,000 روپے |






