حکومتِ پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ، مہنگے پیٹرول اور اسموگ جیسے سنگین ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی پہلی ایپ بیسڈ پنجاب الیکٹرک بائیک رینٹل اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ‘گرین موبلٹی پروگرام’ کے تحت شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں شہر بھر میں 10,000 الیکٹرک بائیکس عوام کے لیے دستیاب کی جائیں گی۔
اس انقلابی سروس کا بنیادی مقصد طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین اور عام شہریوں کو انتہائی کم لاگت پر روزمرہ سفر کی جدید سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس تفصیلی آرٹیکل میں ہم آپ کو اس رینٹل اسکیم کے چارجز، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور موبائل ایپ کے استعمال کے بارے میں مکمل گائیڈ فراہم کریں گے۔
پنجاب الیکٹرک بائیک رینٹل اسکیم کا انفراسٹرکچر اور نیٹ ورک
لاہور جیسے بڑے شہر میں اس ڈیجیٹل رینٹل سسٹم کو کامیابی سے چلانے کے لیے لاہور پارکنگ کمپنی، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور سیف سٹی اتھارٹی مل کر کام کر رہے ہیں۔
ڈاکنگ اور چارجنگ اسٹیشنز: شہر بھر میں ابتدائی طور پر 300 چارجنگ اور ڈاکنگ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں سے بائیک حاصل اور واپس کی جا سکے گی۔
مخصوص لوکیشنز: یہ اسٹیشنز لاہور کے بڑے رہائشی علاقوں، تجارتی مراکز، میٹرو بس اسٹیشنز اور بڑی یونیورسٹیوں کے باہر قائم کیے جائیں گے تاکہ مسافروں کو آخری منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔
آفیشل موبائل ایپ کے ذریعے بائیک حاصل کرنے کا طریقہ
اس سروس کو مکمل طور پر ڈیجیٹل رکھا گیا ہے۔ شہری اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے محض چند سیکنڈز میں بائیک کرائے پر لے سکیں گے۔ اس کا طریقہ کار درج ذیل ہوگا:
ایپ ڈاؤن لوڈ کریں: حکومت کی طرف سے لانچ کی جانے والی مخصوص گرین موبلٹی یا ای بائیک رینٹل ایپ گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
پروفائل رجسٹریشن: ایپ پر اپنا نام، درست موبائل نمبر اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر درج کر کے بائیومیٹرک یا ڈیجیٹل تصدیق مکمل کریں۔
قریبی اسٹیشن تلاش کریں: ایپ کا لائیو میپ آپ کو آپ کے قریب ترین موجود ای بائیک اسٹیشن اور وہاں دستیاب بائیکس کی تعداد دکھائے گا۔
کیو آر کوڈ سکیننگ: اسٹیشن پر پہنچ کر بائیک پر موجود کیو آر کوڈ کو ایپ سے سکین کریں جس کے بعد بائیک کا ڈیجیٹل لاک خودکار طور پر کھل جائے گا اور آپ کا سفر شروع ہو جائے گا۔
کرایہ اور ادائیگی کے چارجز
اگرچہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے فی منٹ یا فی گھنٹہ کے حساب سے حتمی نرخوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا تاہم حکام کے مطابق یہ چارجز روایتی بائیک سروسز اور پیٹرول کے روزمرہ خرچ کے مقابلے میں انتہائی کم ہوں گے۔
سبسڈائزڈ ریٹس: طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے ملازمین کے لیے خصوصی رعایتی چارجز متعارف کرائے جائیں گے۔
ڈیجیٹل پیمنٹ: کرائے کی رقم نقد وصول نہیں کی جائے گی بلکہ یہ آپ کے لنکڈ ڈیجیٹل والٹس جیسے ایزی پیسہ، جاز کیش، یا بینک اکاؤنٹ سے کلومیٹر یا وقت کے حساب سے خودکار طور پر کٹ جائے گی۔
رجسٹریشن کے لیے ضروری شرائط اور اہلیت
پنجاب الیکٹرک بائیک رینٹل اسکیم کا استعمال کرنے کے لیے صارفین کو درج ذیل بنیادی معیار پر پورا اترنا ہوگا:
ہارف کا پاکستانی شہری ہونا اور اصل شناختی کارڈ یا فارم-بی کا حامل ہونا لازمی ہے۔
بائیک چلانے کے لیے صارف کے پاس ایک ویلڈ موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس یا لرنر پرمٹ ہونا ضروری ہو سکتا ہے۔
بائیکس کی چوری یا نقصان کو روکنے کے لیے سیف سٹی کے کیمروں اور بائیک میں نصب جی پی ایس ٹریکرز کے ذریعے ہر ٹرپ کی لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔






