پاکستان کے مالیاتی بجٹ 2026-27 کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور اس بار تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آ رہی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت اور مختلف کاروباری و سیاسی تنظیموں کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کی حد میں نمایاں اضافے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں سب بهت اہم تجویز انکم ٹیکس چھوٹ سالانہ بریکٹ کو موجودہ 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ کرنا ہے۔
اگر وفاقی حکومت اس تجویز کو حتمی بجٹ کا حصہ بنا لیتی ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ ملک کے لاکھوں متوسط ملازمین کو پہنچے گا جن کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے تک ہے۔ آئیے اس نئی ٹیکس تجویز، اس کے ممکنہ اثرات اور آئی ایم ایف (IMF) کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
انکم ٹیکس چھوٹ سالانہ بریکٹ میں مجوزہ تبدیلی
موجودہ ٹیکس قوانین کے تحت پاکستان میں 6 لاکھ روپے سالانہ (یعنی 50,000 روپے ماہانہ) کمانے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ 6 لاکھ سے زائد آمدنی پر مختلف سلیبز کے مطابق ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
بجٹ 2026-27 کے لیے مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (MAP) اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو باقاعدہ سفارش کی ہے کہ انکم ٹیکس چھوٹ سالانہ بریکٹ کو فوری طور پر دگنا کر کے 12 لاکھ روپے مقرر کیا جائے۔
موجودہ حد: 6,00,000 روپے سالانہ (50 ہزار روپے ماہانہ تک ٹیکس معاف)
مجوزہ نئی حد: 12,00,000 روپے سالانہ (1 لاکھ روپے ماہانہ تک ٹیکس سے مکمل استثنیٰ)
12 لاکھ سالانہ بریکٹ سے آپ کی تنخواہ پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو مختلف تنخواہ دار طبقوں کو درج ذیل ریلیف ملنے کی امید ہے:
۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے ملازمین
وہ تمام سرکاری اور نجی ملازمین جن کی بنیادی یا مجموعی قابلِ ٹیکس آمدنی 100,000 روپے ماہانہ تک ہے وہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہو جائیں گے اور ان کی کٹنے والی ٹیکس رقم صفر ہو جائے گی۔ اس سے ان کی ٹیک ہوم (Take-home) سیلری میں اضافہ ہوگا۔
۔ مڈل انکم سلیب (Middle Income Slabs) کے لیے ریلیف
وہ افراد جو سالانہ 12 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان کماتے ہیں ان کے لیے بھی ٹیکس کی شرحوں (Tax Rates) میں بتدریج کمی لانے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور مڈل مینیجرز پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط اور ممکنہ رکاوٹیں
اگرچہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب خود تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے حق میں ہیں تاہم اس تجویز کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) کے سخت اہداف ہیں۔
آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے نہ کہ چھوٹ میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت فی الوقت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے کے لیے ٹیکس ریپلیسمنٹ کے متبادل ذرائع (جیسے ریٹیلرز اور ریل اسٹیٹ پر ٹیکس) تلاش کر کے اس ریلیف کی منظوری لی جا سکے۔
نئے بجٹ میں ٹیکس سلیب کی حتمی منظوری کب ہوگی؟
یہ بات واضح رہے کہ 12 لاکھ روپے کی یہ اسکیم فی الحال ایک انتہائی مضبوط اور زیرِ بحث تجویز ہے۔ جون کے وسط میں جب وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تب ہی اس انکم ٹیکس چھوٹ سالانہ بریکٹ کی حتمی اور قانونی منظوری کا فیصلہ سامنے آئے گا۔ اگر پارلیمنٹ اسے منظور کر لیتی ہے تو یہ نئی شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔






