کسی بھی خاندان میں قریبی رشتہ دار یا سرپرست کا انتقال ایک انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کو جذباتی صدمے کے ساتھ ساتھ مالیاتی اور قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے خاص طور پر جب مرحوم کے بینک اکاؤنٹ میں موجود فنڈز یا رقوم کو نکالنا ہو۔ ماضی میں وفات پا جانے والے رشتہ داروں کے بینک اکاؤنٹس اور جمع پونجی کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے تھے جو کہ ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل تھا۔ عوام کی اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے نادرا (NADRA) کے تعاون سے قوانین کو انتہائی سہل اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ اب متوفی کے بینک اکاؤنٹ کا کلیم کرنے کے لیے طویل عدالتی چارہ جوئی کے بجائے چند بنیادی دستاویزات کی مدد سے قانونی وارثین اپنی رقم حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک لاکھ روپے تک کی چھوٹی رقوم کے لیے آسان ترین طریقہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ صارفین کے تحفظ کی پالیسیوں کے تحت، اگر کسی فوت ہو جانے والے اکاؤنٹ ہولڈر کے کھاتے میں کل رقم 1,00,000 (ایک لاکھ) روپے یا اس سے کم ہو تو مرکزی بینک نے وراثت یا سکسیشن سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) کی شرط کو مکمل طور پر ختم کر رکھا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے وارثین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس صورت میں تمام قانونی وارثین کو درج ذیل طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا:
مشترکہ درخواست: تمام قانونی وارثین مل کر متعلقہ بینک برانچ میں ایک مشترکہ کلیم درخواست جمع کروائیں گے۔
انڈیمنٹی بانڈ (Indemnity Bond): وارثین کو 100 روپے کے نان-جوڈیشل اسٹامپ پیپر پر ایک انڈیمنٹی بانڈ پر دستخط کرنے ہوں گے جس کے ساتھ دو ذاتی ضامنوں (Personal Guarantees) کی ضرورت ہوتی ہے۔
بنیادی دستاویزات: درخواست کے ساتھ مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)، اور تمام وارثین کے شناختی کارڈ کی کاپیاں منسلک کرنا لازمی ہے۔
اس طریقہ کار کی مزید تفصیلات اور دفتری قواعد کے لیے آپ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے آفیشل سرکولر کا مطالعہ کر سکتے ہیں جس میں بینکوں کو وارثین کی فوری سہولت کاری کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔
ایک لاکھ روپے سے زائد کی رقم کے لیے نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ
اگر متوفی کے اکاؤنٹ میں موجود بیلنس یا فنڈز کی مالیت ایک لاکھ روپے سے زائد ہے تو بینکنگ رولز کے مطابق جانشینی کا ثبوت فراہم کرنا قانونی ضرورت ہے۔ ماضی میں یہ سرٹیفکیٹ صرف سول کورٹ سے جاری ہوتا تھا جس میں مہینوں لگ جاتے تھے تاہم اب وفاقی حکومت کے قوانین کے تحت نادرا (NADRA) کو یہ اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اب وارثین چند دنوں کے اندر نادرا کے سکسیشن فیسیلیٹیشن سینٹر سے ڈیجیٹل سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
کلیم کے لیے لازمی دستاویزات کی چیک لسٹ
ایک لاکھ سے زائد مالیت کے فنڈز حاصل کرنے کے لیے قانونی وارث کو اپنی اصل بینک برانچ میں درج ذیل کاغذات جمع کروانے ہوتے ہیں:
نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ: نادرا یا مجاز عدالت کی طرف سے جاری کردہ اصل جانشینی سرٹیفکیٹ جس میں بینک بیلنس کا واضح ذکر ہو۔
کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ: یونین کونسل سے جاری کردہ مرحوم کا آفیشل ڈیتھ سرٹیفکیٹ۔
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC): نادرا سے جاری کردہ ایف آر سی جو تمام وارثین کے خونی رشتے کو ثابت کرے۔
شناختی کارڈز (CNICs): متوفی اور تمام زندہ قانونی وارثین کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں۔
غیر دعویٰ شدہ فنڈز کا کلیم کیسے کریں؟
اگر کسی متوفی کا بینک اکاؤنٹ 10 سال یا اس سے زائد عرصے تک غیر فعال (Dormant) رہا ہو، تو بینکنگ کمپنیز ایکٹ کے تحت وہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ ایسے اکاؤنٹس کو "ان کلیمڈ ڈپازٹس” کہا جاتا ہے۔ اگر وارثین کو دیر سے ایسے کسی اکاؤنٹ کا علم ہو تو وہ اب بھی اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں۔ وارثین کو اسی پیرنٹ بینک برانچ میں جا کر کلیم فارم اور مطلوبہ دستاویزات جمع کروانی ہوں گی جس کے بعد وہ بینک کیس اسٹیٹ بینک کو بھیجے گا اور مرکزی بینک تصدیق کے بعد رقم جاری کر دے گا۔ اس حوالے سے بینکنگ شکایات اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آپ بینکنگ محتسب پاکستان (Banking Mohtasib) کے پورٹل سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کلیم کے عمل کو تیز بنانے کے لیے مفید مشورے
برانچ مینیجر سے رابطہ: کلیم کا عمل ہمیشہ اسی مخصوص برانچ سے شروع کریں جہاں مرحوم کا اکاؤنٹ موجود تھا کیونکہ وہیں تمام دستخط اور ریکارڈ محفوظ ہوتے ہیں۔
بایومیٹرک تصدیق: نادرا سے سرٹیفکیٹ لیتے وقت تمام وارثین کی بائیو میٹرک تصدیق بروقت مکمل کروائیں تاکہ بینک میں کلیئرنس کے دوران کوئی تکنیکی رکاوٹ نہ آئے۔






