سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیملی لا (خاندانی قوانین) کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے، جس نے ملک کے عدالتی نظام میں خواتین کے مالی و قانونی حقوق کو مزید تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جسٹس شاہد بلال حسن کا تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت فیملی کورٹس اب کسی بھی خاتون کی مرضی اور واضح رضامندی کے بغیر اس کے طلاق یا تنسیخِ نکاح کے کیس کو خودبخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ خاندانی تنازعات میں خواتین کے حقِ مہر اور نفقہ (خرچہ) کے تحفظ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
اگر آپ خلع، گھریلو تشدد کی نئی تعریف اور فیملی کیسز میں ججوں کے لیے طے کردہ نئے طریقہ کار کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اس تفصیلی مضمون میں اہم ترین نکات پیش کیے گئے ہیں۔
مرضی کے بغیر خلع کا خاتمہ اور مالی حقوق کا تحفظ
ماضی میں اکثر یہ دیکھا گیا تھا کہ جب کوئی خاتون شوہر کے ظلم یا دوسری شادی کی بنیاد پر عدالت سے طلاق (تنسیخِ نکاح) مانگتی تھی تو فیملی کورٹس کیس کو لمبا ہونے سے بچانے کے لیے اسے خلع کی ڈگری میں بدل دیتی تھیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا تھا کہ عورت اپنے حقِ مہر (سونے کے زیورات) سے محروم ہو جاتی تھی۔
نیا عدالتی قانون: سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر بیوی نے شوہر کے ظلم یا نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر کیس کیا ہے تو عدالت اسے زبردستی خلع نہیں دے سکتی جب تک کہ خاتون خود اس کے لیے تیار نہ ہو۔
مالی حقوق کا تحفظ: عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پہلے شوہر پر لگائے گئے الزامات کی انکوائری کریں۔ اگر ظلم ثابت ہو جائے تو عورت کو مکمل حقِ مہر، سونا اور نفقہ دلایا جائے گا اور اسے خلع کے نام پر اپنے اثاثے چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
ذہنی تشدد اور گھریلو بدسلوکی کی نئی تعریف
اس تاریخی فیصلے کی ایک اور اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے گھریلو تشدد (Domestic Violence) اور ذہنی اذیت کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے۔
ذہنی تشدد (Mental Cruelty): عدالت نے قرار دیا کہ تشدد کا مطلب صرف جسمانی مار پیٹ نہیں ہے۔ شوہر کی طرف سے مسلسل بیزاری کا اظہار، توہین آمیز رویہ، سماجی بائیکاٹ، طعنے دینا اور شدید جذباتی صدمہ پہنچانا بھی بدسلوکی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ طلاق کے لیے ٹھوس قانونی بنیاد ہے۔
مردہ شادیاں ختم کرنے کا اختیار: سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں کسی بھی مرد اور عورت کو ایک ایسی "مردہ شادی” (Dead Marriage) کو کھینچنے پر مجبور نہیں کر سکتیں جو عملی طور پر ختم ہو چکی ہو،کیونکہ یہ انسانی وقار کے خلاف ہے۔
فیملی کیسز میں گواہی اور ثبوت کا نیا معیار
عدالت نے ماتحت عدالتوں (فیملی کورٹس) کو شواہد کو پرکھنے کے لیے روایتی سخت قوانین کو نرم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کوئی سخت ثبوت لازمی نہیں: گھریلو معاملات گھر کی چار دیواری کے اندر ہوتے ہیں اس لیے سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خواتین سے ایسے کیسز میں عینی شاہدین (Eyewitnesses) یا پولیس ایف آئی آر (FIR) جیسے غیر حقیقی ثبوتوں کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
امکانات کا غلبہ (Preponderance of Probability): فیملی کیسز کا فیصلہ فوجداری مقدمات کی طرح "شک سے بالاتر” ثبوتوں پر نہیں، بلکہ حالات اور بیانات کے عمومی جائزے اور امکانات کے توازن پر کیا جانا چاہیے۔
قوانین کے بارے میں مزید تصدیق شدہ معلومات کے لیے آپ حکومتِ پاکستان کے آفیشل پورٹل Government of Pakistan یا عدالتی فیصلوں کے ریکارڈ کے لیے Supreme Court of Pakistan کی آفیشل ویب سائٹ کا دورہ کر سکتے ہیں۔






