اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے باضابطہ طور پر اسٹیٹ بینک کے تحت نوجوانوں کے اکاؤنٹس کا ایک تاریخی فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کے تحت اب نوجوان (ٹین ایجرز) آزادانہ طور پر اپنے بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کھول اور چلا سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں نابالغوں کے لیے صرف والدین کے زیر انتظام یا مشترکہ (Joint) اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت تھی۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے تقریباً 2.6 کروڑ نوجوانوں کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کرنا ہے۔
اہلیت کا معیار
نئے رہنما خطوط کے تحت آزاد اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل والٹ کھولنے کے لیے درج ذیل معیار پر پورا اترنا لازمی ہے:
عمر کی حد: درخواست گزار کی عمر 13 سے 18 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔
رہائشی حیثیت: یہ سہولت صرف پاکستانی شہری نوجوانوں کے لیے ہے۔
اکاؤنٹ کی نوعیت: بنیادی طور پر یہ اکاؤنٹس پاکستانی کرنسی (PKR) میں سیونگ اکاؤنٹس کے طور پر کام کریں گے۔
ضروری دستاویزات اور شرائط
اگرچہ یہ اکاؤنٹس آزادانہ طور پر چلائے جا سکتے ہیں، لیکن اکاؤنٹ کھولنے کے لیے کچھ مخصوص دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔ یہ اکاؤنٹس بینک جا کر یا ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے آن لائن بھی کھولے جا سکتے ہیں۔
نوجوان کے لیے: نادرا ڈیٹا سے بائیومیٹرک تصدیق۔ اس کے لیے عام طور پر ایک درست جووینائل کارڈ (Juvenile Card) یا بے-فارم (B-Form) درکار ہوتا ہے۔
والدین/سرپرست کے لیے: والدین یا سرپرست کو ایک تلافی بانڈ (Indemnity Bond) پر دستخط کرنے ہوں گے (ڈیجیٹل یا فزیکل) جس میں وہ نابالغ کے مالیاتی اقدامات کی قانونی ذمہ داری قبول کریں گے۔
آمدنی کا ذریعہ: اکاؤنٹ میں آنے والے پیسوں کے ذریعے (Source of Funds) کے بارے میں والدین کی طرف سے ایک واضح ڈیکلریشن درکار ہوگی۔
اکاؤنٹ کے فیچرز اور کم از کم بیلنس
مرکزی بینک کی پالیسی میں نوجوانوں کے لیے سستی اور فعال ڈیجیٹل بینکاری کو ترجیح دی گئی ہے۔
کم از کم بیلنس: یہ اکاؤنٹس بیسک بینکنگ اکاؤنٹ (BBA) کی طرح کام کرتے ہیں۔ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے معمولی رقم (عام طور پر 1,000 روپے) درکار ہو سکتی ہے، لیکن اکاؤنٹ چالو رکھنے کے لیے کوئی سخت کم از کم بیلنس رکھنے کی شرط یا فیس لاگو نہیں ہوگی۔
دستیاب خدمات: نوجوانوں کو فزیکل یا ورچوئل ڈیبٹ کارڈ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل ایپ بینکنگ کی سہولت ملے گی۔
پابندیاں: نوجوانوں کو مالیاتی خطرات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے ان اکاؤنٹس پر چیک بک، اوور ڈرافٹ کی سہولت، یا کریڈٹ کارڈز کے اجراء پر پابندی ہوگی۔
18 سال کی عمر مکمل ہونے پر منتقلی
جیسے ہی اکاؤنٹ ہولڈر 18 سال کی عمر کو پہنچے گا (جو کہ پاکستان میں بالغ ہونے کی قانونی عمر ہے) اس کا ڈیجیٹل والٹ یا بینک پروفائل خودکار طور پر ایک باقاعدہ اور اسٹینڈرڈ بینک اکاؤنٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس کے بعد نوجوان اپنے اکاؤنٹ کی تمام قانونی ذمہ داریاں خود سنبھال لے گا اور والدین کی ضمانت ختم ہو جائے گی۔
تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






