واٹس ایپ طویل عرصے سے خاندانی رابطوں کے لیے ایک قابل اعتماد پلیٹ فارم رہا ہے جو جڑے رہنے کا ایک سادہ، نجی اور قابل بھروسہ طریقہ پیش کرتا ہے۔ اب خاندانوں اور ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں یہ میسجنگ کی بڑی کمپنی ایک اپ ڈیٹ رول آؤٹ کر رہی ہے: واٹس ایپ پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹ فیچر۔
خاص طور پر کم عمر بچوں (pre-teens) کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ نیا فیچر والدین اور سرپرستوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے محفوظ طریقے سے متعارف کرائیں اور ان کے واٹس ایپ کے استعمال کو صرف ضروری میسجنگ اور کالنگ تک محدود رکھیں۔
یہاں اس بات کی مکمل تفصیل دی گئی ہے کہ یہ نئے مینیجڈ اکاؤنٹس کیسے کام کرتے ہیں اور یہ والدین کو کون سے حفاظتی کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔
واٹس ایپ پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹ فیچر کیا ہے؟
یہ نئے پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹس سرپرستوں کو خاندان کے کم عمر افراد کے لیے ایک محفوظ اور کنٹرول شدہ واٹس ایپ ماحول بنانے کی سہولت دیتے ہیں۔ ایپ کے وسیع تر فیچرز تک غیر محدود رسائی کے بجائے، بچے ایک محدود ورژن استعمال کریں گے جس کی توجہ صرف منظور شدہ فیملی اور دوستوں سے رابطہ کرنے پر مرکوز ہوگی۔
واٹس ایپ پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹ فیچر میں پیرنٹل کنٹرولز
ایک محفوظ میسجنگ کا ماحول یقینی بنانے کے لیے واٹس ایپ نے والدین کے لیے کئی مضبوط کنٹرولز متعارف کرائے ہیں:
رابطوں اور گروپس کا انتظام: والدین کو یہ حتمی اختیار حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون ان کے بچے کے اکاؤنٹ سے رابطہ کر سکتا ہے اور وہ کن گروپ چیٹس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
میسج ریکویسٹ کا جائزہ: اگر کوئی نامعلوم شخص بچے کو میسج کرنے کی کوشش کرتا ہے تو والدین براہ راست اس میسج ریکویسٹ کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اسے مینیج کر سکتے ہیں۔
پیرنٹ پن (PIN) کا تحفظ: تمام پیرنٹل کنٹرولز اور پرائیویسی سیٹنگز کو بچے کی ڈیوائس پر ایک ‘پیرنٹ پن’ کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔ صرف والدین یا سرپرست ہی ان سیٹنگز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور انہیں تبدیل کر سکتے ہیں جس سے بچہ انہیں خود تبدیل نہیں کر سکتا۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن: ان جدید پیرنٹل کنٹرولز کے باوجود تمام ذاتی چیٹس مکمل طور پر نجی رہتی ہیں۔ یہ چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہیں جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی یہاں تک کہ واٹس ایپ بھی ان پیغامات کو پڑھ یا سن نہیں سکتا۔
واٹس ایپ پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹ کیسے سیٹ اپ کریں؟
سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اس اکاؤنٹ کو سیٹ اپ کرنے کا طریقہ کار انتہائی سادہ اور فزیکل رکھا گیا ہے۔
اکاؤنٹس کو لنک کرنے کے لیے والدین کو اپنے اسمارٹ فون اور اس فون کی ضرورت ہوگی جو انہوں نے بچے کے لیے خریدا ہے۔ دونوں ڈیوائسز کو ساتھ رکھ کر والدین باآسانی اپنے مین اکاؤنٹ کو بچے کے نئے مینیجڈ اکاؤنٹ سے لنک کر سکتے ہیں اور فوری طور پر پرائیویسی سیٹنگز اور منظور شدہ رابطوں کی فہرست ترتیب دے سکتے ہیں۔واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں بتدریج ان پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹس کو رول آؤٹ کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم خاندانوں کے لیے رابطے کا محفوظ ترین ماحول فراہم کرنے کے لیے صارفین کی آراء (فیڈبیک) بھی طلب کر رہا ہے۔
واٹس ایپ پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹ فیچر کیا ہے؟
یہ ایک نیا حفاظتی فیچر ہے جو والدین کو اپنے کم عمر بچوں کے لیے ایک کنٹرول شدہ واٹس ایپ اکاؤنٹ سیٹ اپ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ ایپ کے فیچرز کو صرف والدین کے منظور شدہ رابطوں کے ساتھ بنیادی میسجنگ اور کالنگ تک محدود کر دیتا ہے۔
کیا والدین مینیجڈ اکاؤنٹ پر اپنے بچے کے پیغامات پڑھ سکتے ہیں؟
نہیں، ہرگز نہیں۔ اگرچہ والدین اس بات کو کنٹرول کر سکتے ہیں کہ کون بچے سے رابطہ کرے اور وہ نامعلوم نمبروں کی درخواستوں کا جائزہ لے سکتے ہیں لیکن اصل بات چیت (چیٹس) اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ رہتی ہے جس سے پرائیویسی یقینی ہوتی ہے۔
میں اپنے بچے کو واٹس ایپ کی پرائیویسی سیٹنگز تبدیل کرنے سے کیسے روک سکتا ہوں؟
نئے مینیجڈ اکاؤنٹس کو ایک ‘پیرنٹ پن’ (Parent PIN) کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔ صرف وہی صارف جسے یہ پن معلوم ہواکاؤنٹ کی پرائیویسی اور رابطوں کی سیٹنگز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے انہیں تبدیل یا غیر فعال کر سکتا ہے۔






